انسان کی دریافت
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جز ء انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول و عمل کا record تیار کر رہا ہے۔ اسی record کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ (eligiblecitizen) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طور پر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشے کے مطابق درست طور پر استعمال کریں ان کو جنت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ day of judgement میں قابلِ رد (rejectedlot) قرار پائیں گے۔ انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت دور (pre-deathperiod) اور بعد از موت دور (post-deathperiod)۔ قبل از موت دور امتحانی دور (trialperiod) ہے اور بعد از موت دور انعام پانے کا دور (rewardperiod)۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہ نمبر موجود نہیں ! آپ اگر اپنے ٹیلی فون پر کسی شخص کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جائے تو آپ کی کال مطلوبہ شخص تک نہیں پہنچے گی۔ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آواز نہیں آئے گی بلکہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت یہ ہوگا کہ ٹیلی فون ایکسچینج سے ریکارڈ کی ہوئی ایک آواز سنائی دے گی۔ ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۲ کو میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے اپنے ٹیلی فون پر دہلی کے ایک صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے یہ آواز سنائی دی— یہ نمبر موجود نہیں: This number does not exist. ایکسچینج کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان بر پا ہو گیا۔ میں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader