انسان کی منزل
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی صانع (maker) نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کی حقیقت کو جاننے کے لیے خالق کے تخلیقی نقشے کو جاننا ضروری ہے۔ انجینئر کے منصوبے کو جانے بغیر مشین کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر انسان کی توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔ اس تخلیقی نقشے کو سامنے رکھے بغیر انسان کی زندگی اور اس کی معنویت ناقابل فہم رہتی ہے۔ لیکن اس تخلیقی نقشے کو سمجھنے کے بعد ہر چیز پوری طرح قابل فہم بن جاتی ہے۔ ہر چیز اپنا صحیح مقام پا لیتی ہے: Everything falls into place. اصل یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، اُس کو ایک جوڑادنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں ۔ دوسری وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ اس طرح انسانی زندگی کے دو حصے ہیں، ایک قبل از موت پیریڈ (pre-death period) اور دوسرا بعد از موت پیریڈ (post-death period)۔ انسانوں کو اُس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اُس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از موت دور اور بُعد از موت دور۔ موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دار الجزاء (world of reward) کے طور پر ۔ موجودہ دنیا چونکہ ٹسٹ کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگرامینیشن ہال (examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بققدر ضروری سامان موجود ہیں مگر پر مسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگر امنیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہو رہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) پاسکے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader