انسان کی منزل
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
کے وجود کو ٹھیک اسی علمی معیار پر ثابت کیا جا سکتا ہے جس معیار پر سائنس میں دوسری تمام چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔ سائنسی ثبوت اس معاملے میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سائنٹفک پروف کیا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق، سائنٹفک پروف یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے معاملے میں تیقن (certainty) کا درجہ حاصل ہو جائے ۔ اس قسم کا نا قابلِ انکار تیقن کسی بھی چیز کے بارے میں ممکن نہیں۔ جدید سائنسی موقف کے مطابق، کسی چیز کا علمی طور پر ثابت ہو جانا یہ ہے کہ اس کا قرینہ یا امکان (probability) ثابت ہو جائے ۔ جدید سائنس میں جن نظریات کو مسلمہ کے طور پر مانا جاتا ہے ان کو صرف اس لیے مانا جاتا ہے کہ ان کا امکان ثابت ہو گیا، نہ یہ کہ مشاہداتی سطح پر ان کے واقع ہونے کا قطعی علم حاصل ہو گیا ہے۔ ایٹم کے اسٹرکچر کو بطور حقیقت ماننا اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ عالم آخرت کے وجود کو ماننے کے لیے بھی ہمیں اسی مسلمہ سائنٹفک متھڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے سوا کسی دوسرے متھڈ کو استعمال کرنا اصولی طور پر درست نہیں۔ کیوں کہ علمی طور پر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ دوسرے معاملات میں جس سائنٹفک متھڈ کو ہم معقول (valid) مانیں، عالم آخرت کے بارے میں ہم اس متھڈ کے استعمال سے انکار کر دیں۔ تین علمی اصول جیسا کہ معلوم ہے، اس طرح کے معاملے میں تین علمی اصول (scientific method) کے تین اجزاء ہیں۔ وہ اجزاء یہ ہیں ۔ مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق: Hypothesis, Observation, Verification اس سہ نکاتی فارمولے کو عالم آخرت کے وجود کے معاملے میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طور پر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty) ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader