Urdu book · انسان کی منزل

فطرت کا حصہ

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ (accident) کے طور پر وجود میں آئی ہے نہ کہ کسی خالق کے ارادے کے تحت۔ یہ جملہ گرینر کے اعتبار سے درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ موجودہ با معنی کائنات ایک حادثے کے طور پر ظہور میں آئی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بے شعور حادثہ بھی ایک ایسا عامل ہے جو با معنی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں اس حادثے کو لازمی طور پر قابل تکرار (repeatable) ہونا چاہیے۔ اُس کو بار بار وقوع میں آنا چاہیے۔ جس طرح بے شعور حادثے نے ایک بار ایک با معنی کائنات بنائی، اسی طرح دوبارہ ایسا ہونا چاہیے کہ حادثات کے ذریعے کوئی با معنی چیز وجود میں آ جائے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ سائنسی اندازے کے مطابق، کائنات کی عمر تقریباً پندرہ بلین سال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس لمبے عرصے میں کوئی با معنی کائنات استثنائی طور پر صرف ایک بار وجود میں آئی، اس کے بعد کبھی نہیں، حتیٰ کہ جُزئی طور پر بھی نہیں۔ مثلاً ایسا نہیں ہوا کہ دوبارہ کوئی نیا شمسی نظام بن جائے، دوبارہ کسی سیارے پر پانی اور ہوا اور سبزہ جیسی چیزیں وجود میں آ جائیں، دوبارہ کوئی ایسی زمین بن جائے جہاں انسان اور حیوان پیدا ہو کر چلنے پھرنے لگیں۔ یہ استثناء واضح طور پر ارادی تخلیق کا ثبوت ہے۔ تمام انسانی علوم کے مطابق، موجودہ دنیا کامل طور پر ایک استثنائی واقعہ ہے۔ وہ تاریخ موجودات میں ایک نادر استثناء ہے۔ کائنات کا استثناء ہونا منکرین خدا کے مذکورہ نظریے کی یقینی تردید ہے۔ کائنات اگر صرف ایک حادثے کا ظہور ہوتی تو یقینی طور پر وہ قابل تکرار ہوتی۔ اور جب وہ قابلِ تکرار نہیں تو حادثے کی اصطلاح میں اس کی توجیہہ کرنا بھی سراسر بے بنیاد ہے۔ ایسی توجیہہ علمی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ کسی انسان کے لیے خود اُس کا اپنا وجود۔ کوئی شخص اگر اپنے وجود کو مانتا ہے تو ٹھیک اسی دلیل سے اُس کو خدا کے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اپنے وجود کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page