فطرت انسانی کا تقاضا
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت انسانی کا تقاضا جسم اور روح کی علیحدگی اور اس کے بعد خدا کو انسانی زندگی سے جدا کرنے کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار انسان کے سامنے یہ مسئلہ آیا ہے کہ سامان حیات کی افراط کے درمیان انسان انسان احساس محرومی سے دوچار ہے۔ آج انسان کی صورت میں ہمارے سامنے ایک ایسا وجود ہے جس کو سب کچھ فراہم کرنے کے بعد بھی اس کے چہرے پر حقیقی خوشی دیکھنا ہمارے لیے مقدر نہیں۔ برٹرینڈرسل (۱۹۷۰-۱۸۷۲) اپنی کتاب (The Conquest of Happiness) کا آغاز ان الفاظ میں کرتا ہے کہ جانور اس وقت تک خوش رہتے ہیں جب تک وہ صحت مند ہوں اور انھیں خوراک حاصل ہو۔ انسان کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ مگر جدید دنیا میں انسان خوش نہیں ،کم از کم اکثریت کا حال یہی ہے : Animals are happy so long as they have health and enough to eat. Human beings, one feels, ought to be, but in the modern world they are not, at least in a great majority of cases. اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تہذیب اپنی عظیم کامیابیوں کے باوجود انسان کی طلب کا صرف نصف حصہ فراہم کیا ہے اس نے وہ جسم‘‘ کے تقاضے فراہم کئے۔ مگر وہ ”روح‘‘ کے تقاضے فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انسان معنویت چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو صرف پتھر کا ایک ٹکڑا دیتی ہے۔ انسان زندگی چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو انسان کی صورت میں ایک اسٹیچو فراہم کرتی ہے۔ انسان قلب و دماغ کی تسکین چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو مشین کی بے روح گاڑی میں بٹھا کر چھوڑ دیتی ہے۔ انسان خالق کائنات سے ملنا چاہتا ہے اور سائنس اس کو مخلوق تک پہنچا کر اپنی سواری سے اتار دیتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو سجدہ کرے ۔ مگر سائنس نے جو دنیا بنائی ہے اس میں اس کو کہیں اپنا محسن نظر نہیں آتا۔ حتی کہ وہ حقیقی خدا کو نہ پا کر مفروضہ خداؤں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔ مگر یہ ویسا ہی ہے جیسے کسی ماں کے یہاں اولاد نہ ہو تو وہ پلاسٹک کی گڑیا یالے کر اپنی گود میں دبالے۔ دوسرے تمام معبود قرآن کے الفاظ میں اسماء ( یوسف ۴۰) ہیں نہ کہ حقیقتیں۔ انسان کے لئے ایک برتر خدا کی ضرورت اتنی مسلم ہے کہ وہ مفکرین بھی اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں جو اپنے ذوق کے مطابق خدا اور مذہب کو ماننا پسند نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ اگر زندگی کو پورے معنوں میں انسانی زندگی بنانا ہے تو اس کا کوئی مقصد ہونا چاہئے جو خود انسانی زندگی سے باہر ہو۔ ایسا مقصد جو غیر شخصی ہو اور انسانیت سے بلند تر ہو۔ مثلاً خدا، صداقت یا حسن :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader