Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

فطرت انسانی کا تقاضا

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے اور اس کی روح سے اتصال قائم کرتا ہے۔ اسلام میں ہر آدمی براہ راست اپنا رابطہ خدا سے قائم کر سکتا ہے۔ Monthly Arabia, London, July 1983 انسان کی فطرت ایک ایسا خدا چاہتی ہے جس سے وہ براہ راست مربوط ہوسکے۔ مگر موجودہ مذاہب اس کو ایسا خدا دیتے ہیں جس سے وہ صرف بالواسطہ طور پر مربوط ہوسکتا ہے۔ تمام مذاہب میں صرف اسلام ہے جو انسان کو براہ راست خدا سے ملاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آج بھی اپنی اصل الہامی شکل میں باقی ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب انسانی ملاوٹ کی وجہ سے اپنی اصل الہامی صورت کو کھو چکے ہیں۔ تمام مذاہب اصلاً ایک تھے۔ مگر اب ان میں انسانی آمیزش کی وجہ سے فرق ہو گیا ہے (یونس ۱۹) کوئی مذہب ایسا ہے جوکسی خدا پیش کر رہا ہے۔ مگر یہ انسانی طلب کے سراسر غیر مطابق ہے۔ کیوں کہ خدا کی طلب ایک ایسی ہستی کی طلب ہے جس کو آدمی اپنا مرکز توجہ بناسکے۔ اور مرکز توجہ ہمیشہ کوئی ایک چیز بنتی ہے نہ کہ کئی چیز۔ کوئی مذہب کسی انسان کو خدا کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ مگر انسان کو جس خدا کی تلاش ہے وہ وہی خدا ہو سکتا ہے جو اس کی اپنی ذات سے برتر ہو، ایسا خدا انسان کا معبود نہیں بن سکتا جو خود اس کے اپنے جیسا ہو۔ کوئی مذہب خدا کو محض ایک روح مجرد (Vague Spirit) کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ مگر انسان ایک دیکھنے اور سننے اور بولنے والے خدا کو چاہتا ہے۔ ایتھیریا قوت کشش جیسی کوئی مجرد چیز اس کی مانگ کو پورا نہیں کر سکتی۔ مشہور مفکر آرتھر کوئسٹ کو عزت اور مرتبہ حاصل تھا۔ اس کے پاس تقریباً چار لاکھ پونڈ نقد موجود تھے۔ مگر تین شادیوں کے باوجود وہ بے اولاد تھا۔ نیز رُٹہ اور خون کے کینسر نے اس کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ چنانچہ اس نے مایوسی کے عالم میں مارچ ۱۹۸۳ میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی کر لی۔ اس وقت اس کی عمر، ۷۷ سال تھی۔ اسی طرح ہر روز دنیا بھر میں سیکڑوں آدمی خود کشی کرتے رہتے ہیں۔ خود کشی کے ان واقعات کی وجہ ہوتی ہے موجودہ دنیا میں اپنی آرزوؤں کی تکمیل سے مایوسی۔ مگر تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر سچا عقیدہ رکھنے والوں نے کبھی خود کشی کی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ آدمی کو موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں امید عطا کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی اسکیم میں زندگی صرف موجودہ دنیا کی زندگی نہیں ہے۔ وہ موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ خدا پر یقین رکھنے والے کو اگر دنیا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ آئندہ زندگی کے ساتھ لوگا لیتا ہے۔ وہ انسانوں کی دنیا سے مایوس ہو کر خدا کی دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page