خدا کا بگڑا ہوا تصور
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی سوسائٹی کے بیشتر افراد جب اسلام کے تصور کے مطابق خدا کو اپنے عقیدے میں شامل کریں تو اس کے بعد اجتماعی معاملات میں زبردست تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ آدمی کا یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اس کے اندر سے یہ مزاج ختم کر دیتا ہے کہ وہ اندر کچھ ہو اور باہر کچھ۔ ایسے لوگ دوسروں کا استغلال نہیں کرتے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا انھیں حساب دینا پڑے گا۔ ان کی زندگی خود رخی زندگی (Self-oriented life) کے بجائے خدا رخی زندگی (God-oriented life) بن جاتی ہے۔ خدا پر ایمان لانا ایک ایسی ہستی پر ایمان لانا ہے جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ جو انسان کے دلوں تک کا حال جانتا ہے جو انسان سے اس کے تمام کھلے اور چھپے کا حساب لے گا۔ اس طرح خدا پر ایمان لانا آدمی سے اس کی خودی اور سرکشی کو چھین لیتا ہے۔ ایسا آدمی انتہائی سنجیدہ (Sincere) اور کامل طور پر حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ یہ ہی چیز ہر قسم کی اصلاح کا راز ہے۔ آدمی اگر سنجیدہ اور حقیقت پسند ہے تو وہ ہر کام کو صحیح طور پر انجام دے گا اور اگر وہ سنجیدہ اور حقیقت پسند نہ ہو تو جو کام بھی اس سے متعلق ہوگا اس کو وہ بگاڑ ڈالے گا۔ اسلام کے مطابق خدا کا عقیدہ آدمی کے اندر ہی سنجیدگی اور حقیقت پسندی پیدا کرتا ہے۔ ہماری دنیا میں جو انسان ہیں وہ سب برابر نہیں۔ یہاں کوئی طاقت ور ہے اور کوئی کمزور۔ یہی فرق ہر قسم کے ظلم و فساد پیدا کرتا ہے۔ جو شخص اپنے کو طاقت ور پاتا ہے وہ اس کے اوپر چڑھ دوڑتا ہے جس کو وہ بنطا ہر کمزور دیکھ رہا ہے۔ خدا پر ایمان برائی کی اس جڑ کو کاٹ دیتا ہے۔ خدا پر ایمان بناتا ہے کہ اصل معاملہ انسان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ اصل معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہے۔ یہاں ایک طرف خدا ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں اور دوسری طرف انسان ہے جس کو خدا کے مقابلہ میں کوئی طاقت حاصل نہیں۔ گویا یہاں زیادہ طاقت اور کم طاقت کی تقسیم نہیں بلکہ طاقت اور بے طاقتی کی تقسیم ہے (فاطر ۱۵) خدا پر ایمان آدمی کے ذہن کو یکسر بدل دیتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے معاملہ کو دوسرے انسانوں کی نسبت سے دیکھنے کے بجائے خدا کی نسبت سے دیکھنے لگتا ہے۔ کیونکہ بالآخر جس سے معاملہ پیش آنے والا ہے وہ خدا ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی سے وہ تمام ظالمانہ خواہشیں حذف ہو جاتی ہیں جو اپنے معاملہ کو دوسرے انسانوں کی نسبت سے دیکھنے کی وجہ سے مصنوعی طور پر اس کے اندر پیدا ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی حقیقی سطح پر آجاتا ہے ۔ وہ انسان اصلی (Man cut to size) بن جاتا ہے۔ دو شخص یا دو قوم کے درمیان جب بھی نزاع پیدا ہوتا ہو بیشتر حالات میں غلطی دونوں طرف ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader