سچائی کا اعتراف
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں ہیرو کا مقام حاصل کر چکا تھا۔ یہ واقعہ اب کلیسا کی تاریخ میں ایک شرمناک واقعہ بن گیا۔ وہ کلیسا کی غیر علمی روش کے لئے ایک علامتی مثال کی حیثیت رکھتا تھا۔ حتی کہ جو چیز پہلے گلیلیو کا مسئلہ تھی وہ اب خود کلیسا کا مسئلہ بن گئی۔ کیوں کہ گلیلیو کی علمی حیثیت کا اعتراف کئے بغیر کلیسا اپنے اعتماد کو بحال نہیں کر سکتا تھا۔ ۱۹۸۰ میں کلیسا نے اس مسئلہ پر نظر ثانی کے لئے آٹھ افراد پر مشتمل ایک خصوصی کمیشن مقرر کیا۔ اس کے ارکان میں مورخ ، ریاضی داں اور مسیحی علماء شامل تھے۔ کمیشن طویل غور وخوض اور بحث و مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ علم نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور اس معاملہ میں یقینی طور پر گلیلیو حق پر تھا۔ اس کے بعد مئی ۱۹۸۳ میں ویٹیکن میں ایک خاص اجلاس ہوا جس میں مورخین ، مسیحی علماء اور سائنس دانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پوپ جان پال ثانی خود بھی اس تاریخی اجتماع میں موجود تھے۔ پوپ نے تمام لوگوں کے سامنے اس معاملہ میں کلیسا کی غلطی کا اعتراف کیا اور گلیلیو کے برحق ہونے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا: The Church's experience, during the Galileo affair and after it, has led to a more mature attitude and to a more accurate grasp of the authority proper to her. گلیلیو کے زمانہ میں اور اس کے بعد کلیسا کے تجربہ نے اس کو زیادہ پختہ نقطہ نظر اور اختیار کے زیادہ صحیح اور اک تک پہنچایا ہے جو اس کے لئے مناسب ہے (گار جین ۲۹ مئی ۱۹۸۳ ) یہ تضاد کیوں کلیسا نے کیوں ستر ہوئیں صدی عیسوی میں گلیلیو کا انکار کیا تھا اور بیسویں صدی میں کیوں اس نے گلیلیو کا اقرار کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستر ھویں صدی عیسوی میں گلیلیو کی شخصیت ایک متنازعہ (Controversial) شخصیت تھی۔ حب کہ بیسویں صدی عیسوی میں وہ ایک تسلیم شدہ شخصیت بن چکی ہے۔ (Established) ٹھیک یہی معاملہ کلیسا کا ایک اور شخصیت کے ساتھ پیش آیا۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ مسیحی کلیسا نے ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد کا انکار کیا۔ اس انکار کی وجہ یہ تھی کہ ساتویں صدی میں حضرت محمد کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت تھی۔ اب دوبارہ یہ ہوا ہے کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر حضرت محمد کی شخصیت ایک ثابت شدہ شخصیت بن چکی ہے۔ آج علم اور تاریخ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader