Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

خلا کے اندر اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا وجود قائم رکھنے کے لئے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازے کے مطابق رکھا گیا ہے اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان سنگ ریزوں کی مانند ہو جائے جو کسی متحرک پہیہ پر رکھ دئے گئے ہوں، اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ ہوا کے ذریعہ جو دباؤ پڑ رہا ہے وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیا گیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً ۲۸۰ من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔ پھر ذرا سورج پر غور کیجئے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ ۵۴ ہزار میل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتا ہوا سمندر ہے جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں ۔ اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلہ پر آجائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جائے۔ یہی سورج ہے جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لئے اس کو ایک خاص فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دو پہلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے اور اگر قریب آجائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہو جائیں۔ پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھئے اور اس قوت کشش پر غور کیجئے جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کار خانہ ہے، اس کی وسعت کا اندازہ ماہرین فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے، اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے مگر پوری کائنات کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں بہت سے اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپر رکھا جاسکتا ہے۔ جو قوت کشش ان بیشمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجئے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page