معبود کی تلاش
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کو معبود کی جگہ دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو ایک رفیق زندگی کی ضرورت ہو تو اس کی خدمت میں آپ پتھر کی ایک سل پیش کر دیں۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے جو ساری کائنات پر محیط ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خطہ میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں زیادہ سے زیادہ ایک سماج کی تعمیر میں کچھ مدد دے سکتی ہیں مگر وہ انسان کے تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں ، اس کے لئے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لئے ایک ایسا وجود چاہئے جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہو۔ اپنے سہارے کے لئے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے جو کائنات کے اوپر حکمران ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا اس کا خلا بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر کرنے والی نہیں بن سکتی انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزو اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ زندگی کے مقابلہ میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے اندر سے ابلتے ہیں اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔ ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے یعنی دو لاکھ ارب سال (۲۰ نیل سال)، اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے یا سحابے کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader