معبود کی تلاش
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
جانور ہے۔ اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوتے اور خشکی پر بھی گھاس اگنا شروع ہوئی۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لئے حالات سازگار ہوتے اور زمین پر انسان پیدا ہوا۔ اس نظریہ کے مطابق انسان کی ابتدا پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے۔ وقت کے جونا صلے کائنات نے طے کئے ہیں ان کے مقابلہ میں انسانی تاریخ چشم زدن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط سوسال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعہ کو سامنے رکھتے اور پھر اس حقیقت پر غور کیجئے کہ کائنات میں انسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔ زمین و آسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔ مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزار سے مرکب ہے ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں مگر ان مادی اجزار کی یکجائی سے جو اعلیٰ ترین وجود بنتا ہے وہ صرف سو برس زندہ رہے۔ جو کائنات کا حاصل ہے وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لئے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لئے پیدا کر کے ختم ہو جائیں۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جا سکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جا گرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لئے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرہ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader