Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

انسان کی نارسائی

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے مشاہدہ کے پیمانہ میں خاکستری سفون کوئی چیز نہیں۔ نوع انسانی کی زندگی اس زمانہ کے مقابلہ میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی ، اور خود کرہ ارض کائنات کے اتھاہ سمندر میں ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں ۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارہ میں جو خیال آرائی کرتا ہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہو جاتی ہے جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آفتاب اسی کھرب سال سے موجود ہے اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں دو ارب سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کرور سال گزر چکے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں ، اس طویل زمانہ کا ایک بہت حقیر جز رہ ہے جو کہ در اصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لئے درکار ہے۔ کائنات کے بے حد طویل ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لا محدود ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے ہماری عقل اور ہمارا تجربہ بالکل ناکامی ہیں ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعہ کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لئے بالکل کافی ہے اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں، ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتے ہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کر سکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جا سکے ۔ اور وہ ذہن نہیں حاصل نہیں ہے جو براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page