Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

پیغمبر کی ضرورت

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

(Binding Energy) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا مادہ اپنے آخری تجزیہ میں توانا ئی ہے، میں پوچھتا ہوں، کیا یہ توانا ئی قابلِ مشاہدہ چیز ہے۔ کیا کسی بھی خورد بین کے ذریعہ اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید سائنس نے خود یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں ایک ناقابلِ مشاہدہ چیز ہے اس کو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اب اگر رسول کی بات کو ماننے کے لئے ہم یہ شرط لگائیں کہ وہ جن حقیقتوں کی خبر دے رہا ہے وہ ہمیں چھونے اور دیکھنے کوملنی چاہتیں تب ہم اسے مانیں گے تو یہ ایک نہایت نا معقول بات ہوگی۔ یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے تاریخ ہند کا کوئی طالبِ علم ایسٹ انڈیا کمپنی کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوۓ اپنے استاد سے کہے کہ کمپنی کے تمام کردار کو میرے سامنے لا کر کھڑا کر دو اور وہ میرے سامنے تمام گزرے ہوۓ واقعات کو دہرائیں ، تب میں تمہاری تاریخ کو تسلیم کروں گا۔ پھر وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی روشنی میں دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کریں کہ یہ دعوت صحیح ہے یا غلط، اور ہم کو اسے قبول کرنا چاہئے یا نہیں۔ میرے نزدیک اس دعوت کو جانچنے کے تین خاص پہلو ہیں۔ اول یہ کہ اس کی توجیہ حقیقت سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔ دوسرے یہ کہ زندگی کے انجام کے بارہ میں اس کا دعویٰ محض دعویٰ ہے یا اس کی کوئی دلیل بھی اس کے یہاں ملتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اس کے پیش کئے ہوۓ کلام میں کیا ایسی کوئی نمایاں خصوصیت پائی جا رہی ہے کہ اس کو خدا کا کلام کہا جاسکے۔ ان تینوں پہلوؤں کے اعتبار سے جب ہم رسول کے کام کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر وہ نہایت کا میابی کے ساتھ پورا اتر رہا ہے۔ ۱۔ رسول نے کائنات کی جو توجیہ کی ہے اس میں ہماری تمام پیچیدگیوں کا حل موجود ہے۔ ہمارے اندر اور ہمارے باہر جتنے سوالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا وہ بہترین جواب ہے۔ ۲۔ زندگی کے انجام کے بارہ میں اس کا جو دعویٰ ہے اس کے لئے وہ ایک قطعی دلیل بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زندگی میں وہ اس انجام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page