Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

منزل کی طرف

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈھیلی ہو گئی تو اس کی جگہ لینے کے لئے اصلاحی قسم کے قوانین وجود میں آئے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کی اطاعت گزاری کی جگہ قانون کی حکمرانی نے لے لی ۔ قانون اس متعین ضابطے کو کہتے ہیں جس کو کسی سماج میں لازمی طور پر قابل تسلیم قرار دیا گیا ہو اور جس کے خلاف ورزی پر آدمی کو سزا دی جا سکتی ہو۔ اس قسم کے قوانین ہر ملک میں نہایت وسیع پیمانے پر بنائے گئے ۔ اس طرح گویا زندگی کے تمام پہلووں کے بارے میں ریاست کی طرف سے حکماً یہ بتایا گیا کہ وہ صحیح ترین رویہ کیا ہے جسے آدمی کو اختیار کرنا چاہئے۔ مگر ان قوانین کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ جو برائی پاپے سیدھے طریقے سے ہوتی تھی وہ ہیر پھیر کے ذریعہ ہونے لگی۔ قانون نے صرف برائی کی شکلوں کو بدلا ہے اصل برائی کو روکنے میں وہ بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔ حکومت دیکھتی ہے کہ کاروباری لوگ چیزوں میں ملاوٹ کر رہے ہیں، ناجائز منافع رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے عام پبلک کو پریشان کرتے ہیں۔ اس کو روکنے کے لئے وہ ایک قانون بناتی ہے اور اس کے نفاذ کے لئے مارکٹنگ انسپکٹروں کی ایک فوج مقرر کر دیتی ہے جو قانون کی دفعات لے کر ایک ایک دکان کو جانچنا شروع کرتے ہیں ۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ دکان دار انہیں رشوت دے کر لوٹا دیتے ہیں ۔ اب حکومت اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو حرکت میں لاتی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ بھی صرف یہ نکلتا ہے کہ جو رشوت پہلے صرف مارکٹنگ انسپکٹر لے رہے تھے اس میں ایک اور محکمہ کے لوگ حصے دار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی حکومت کے علم میں کوئی برائی آتی ہے تو وہ اس کے خلاف ایک قانون بنا دیتی ہے یا ایک آرڈر جاری کر دیتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ چلنے والے اپنا راستہ بدل کر چلنے لگتے ہیں۔ اگر کسی چیز کی درآمد برآمد پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اسمگلنگ شروع ہو جاتی ہے ۔ اگر ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں تو جعلی حسابات کے رجسٹر تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی چیز کی کمی کے پیش نظر اس کے خرچ کو مقرر حد میں رکھنے کے لئے اس پر کنٹرول کیا جاتا ہے تو پبلک مارکٹنگ اور جعلی پرمٹ کا کاروبار جاری ہو جاتا ہے۔ کسی کاروبار کو قومی ملکیت میں لیا جاتا ہے تو سرکاری افسر اس قدر لوٹ مچاتے ہیں کہ نفع کے بجائے اس میں حکومت کو گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ اس طوفان بے تمیزی میں اگر کوئی پکڑ لیا جائے اور معاملہ عدالت تک پہنچنے کی نوبت آئے تو وہاں بھی غلط کارروائیاں اور جھوٹی شہادتیں اس کو بچانے کے لئے موجود ہیں ۔ غرض قانون اور حقیقت کے درمیان ایک طرح کی آنکھ مچولی ہو رہی ہے جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page