Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

ملے گی۔ جس کو پڑھ کر آدمی کی روح بیدار ہوتی ہے اور اس کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر اس کے بعد جب وہ اگلے صفحات میں سینٹ پال کا فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کو یہ تمام چیزیں بے ضرورت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفارہ کے عقیدے نے عیسائی مذہب میں عمل کی بنیاد کو اسی طرح کمزور کر دیا ہے جیسے کسی ملک کے دستور میں یہ لکھ دیا جائے کہ اگرچہ یہاں پولیس اور عدالت کا نظام قائم رہے گا مگر کسی کو اس کی غلط روی پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ آدمی پاک باز رہنے پر قادر نہیں ہے۔ ہندو مذہب کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ بظاہر وہ صرف اخلاقی اپیل نہیں کرتا بلکہ سزا اور انعام کا بھی ایک نظریہ اپنے پاس رکھتا ہے جس کو "کرم" کہتے ہیں، یعنی اپنے کئے کا پھل پانا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نظریہ بھی اپنی ابتدائی شکل میں ایک صحیح نظریہ ہوگا ۔ مگر اب تو وہ نہایت ناقص صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ہندو مذہب پر فلسفہ کا جو لمبا دور گزرا ہے۔ غالباً اس زمانے میں لوگوں کی ذہنی موشگافیوں نے اس کی ہیئت بدل دی۔ اور ایک صحیح چیز نے غلط شکل اختیار کر لی۔ اب یہ نظریہ جس صورت میں ہمارے سامنے ہے اس کو آواگون یا پنز جنم کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جیسا عمل کرتا ہے اسی کے لحاظ سے وہ اگلے جنموں میں اچھے یا برے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور پیدائش کا یہ چکر برابر چلتا رہتا ہے ۔ اس عقیدے کی رو سے آج جو وجود انسان ، حیوان، پرند، درخت، سبزی گھاس یا کیڑے مکوڑے کی شکل میں نظر آرہا ہے وہ سب پچھلے اعمال کے نتیجے میں ہے۔ پنز جنم کا یہ نظریہ معمولی اختلاف کے ساتھ ہندو مذہب کی تمام شاخوں میں تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس نظریے کے اوپر بھی ہماری تنقید وہی ہے جو عیسائیت کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں ۔ یعنی اس کے اندر جو محرک ہے وہ نہایت ناقص اور محدود ہے ۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ایسا زور دار داعیہ پیدا نہیں کرتا جس کی رغبت سے وہ اچھائی کی طرف لپکے اور جس کا ڈر اسے برائیوں سے روکنے پر مجبور کرے ۔ فرض کیجئے ایک کلرک کو ایک غلط کام کے لئے پچاس ہزار روپے رشوت میں مل رہے ہیں ۔ کیا صرف اس لئے وہ ملتے ہوئے فائدے کو چھوڑ دے گا کہ مرنے کے بعد جب اس کا دوسرا جنم ہوگا تو اس میں وہ مچھر مکھی ہو جائے گا یا آم اور ببول کی شکل میں پیدا ہوگا۔ اینٹی کرپشن قانون کے تحت ملنے والی سزا کا خوف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page