Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل حقیقت ہونا خود بو یہ معنی رکھتا ہے کہ اس سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ خاتمہ اس وقت میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا مقصد ذہنی طور پر آپ کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں سے آپ اپنی منزل کو دیکھ سکیں ۔ اور ان سوالات کا جواب پالیں جو آپ کو اور ساری انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں ۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کو میری بات لازماً صحیح نظر آنی چاہئے ۔ میں آپ کو اختلاف کا حق دیتا ہوں ۔ مگر یاد رکھے کہ جب کسی معاملے میں آدمی کو اپنی رائے مختلف نظر آتی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ اس کی حقیقی رائے ہو۔ اکثرائیں محض آدمی کے موروثی جذبات کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ آدمی کہتا ہے کہ ”میرا خیال یہ ہے “ حالانکہ وہ دراصل ماحول کا خیال ہوتا ہے جس کو وہ اپنا سمجھ کر دہرادیتا ہے ۔ عقیدے ، رائیں اور تعلقات بیشتر حالات میں تاریخ اور ماحول کے اثر سے بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنہوں نے فی الواقع اپنے خاندان اور اپنے گردو پیش سے اوپر اٹھ کر خالص عقلی غور و فکر کے نتیجے میں کوئی عقیدہ اپنایا ہو ، کوئی رائے قائم کی ہو یا کسی سے اپنے تعلقات جوڑے ہوں ۔ اس لئے آج آپ جس عقیدے کو اپنا عقیدہ اور جس طریق زندگی کو اپنا طریق زندگی کہتے ہیں ، ضروری نہیں ہے کہ واقعہ بھی ایسا ہی ہو ۔ بہت ممکن ہے کہ ایک مخصوص خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے یہ چیزیں آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہوں ۔ میں آپ کو یہی معلوم کرنے کی دعوت دیتا ہوں ۔ آپ سوچئے کہ آپ نے جس عقیدے کو اپنا رکھا ہے وہ فی الواقع آپ کی سوچی سمجھی راہ ہے یا محض باپ دادا کی پیروی میں آپ بے سوچے سمجھے اس پر چلے جارہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ان دونوں کے فرق کو سامنے رکھیں گے اور وراثتی جذبات اور ماحول کے تاثرات سے الگ ہو کر اپنی راہ ڈھونڈھنے کی کوشش کریں گے تو لازماً میری تائید کریں گے اور اس وقت آپ کو صاف نظر آئے گا کہ حقیقتہ الانسان کی منزل کس طرف ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page