Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی
سوال وجواب
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
تکفیر و تفسیق کا موجودہ طریقہ جو مسلمانوں میں ایک عرصہ سے رائج ہے وہ سراسر باطل ہے، شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مذموم طریقہ عباسی سلطنت کے زمانے میں رائج ہوا اور ”فرق ضالّہ“ کے نام پر وہ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آگئی کہ ان فتووں کے مطابق امت مسلمہ میں کوئی بھی شخص مومن و مسلم کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ آخر کار علمائے اتفاق عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر و تفسیق کے اس کام کو بند کر دیا جائے۔ علمائے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا : لَا نُکَفِّرَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ( ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے )۔
