Urdu book · اسلام دینِ فطرت

اسلام دین فطرت

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اسی طرح سارے مسلمان خدا کے رسول کو اپنا مرکز اجتماع قرار دے کر اس کے گرد متحدہ زندگی گزاریں گے۔ رکوع و سجود اور قیام و قعود کی مختلف حالتوں کے ذریعہ خدا کے سامنے اپنی بندگی کا اققرار کیا جاتا ہے۔ کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر، کبھی جھک کر، کبھی نیاز مندانہ بیٹھ کر کبھی اپنے سر کو زمین پر رکھ کر خدا کے ساتھ اپنے عہد بندگی کو تازہ کرتے ہیں۔ نماز میں قرآن کے حصے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کو جہاں کہیں سے اور جتنا بھی پڑھے، قرآن کی دعوت کا تعارف مل جاتا ہے۔ قرآن کا ہر صفحہ گویا قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس طرح نماز میں اگرچہ بیک وقت قرآن کا مختصر حصہ پڑھا جاتا ہے مگر وہ اللہ کی پسند و ناپسند کو جاننے کے لئے ہمیشہ کافی ہوتا ہے ۔ اسی کے ساتھ نماز میں خدا کی حمد اور ذکر کے کلمات بولے جاتے ہیں، اس سے دعا کی جاتی ہے، رسول کے لئے اور تمام اہل ایمان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا خاتمہ تمام انسانوں کو سلامتی بھیج کر کیا جاتا ہے۔ اس طرح اپنے مختلف اجزاء کے ذریعہ نماز ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو بیک وقت اللہ کی عبادت بھی ہے اور اللہ کے حکموں کی یاد دہانی بھی ۔ وہ اہل ایمان کے لئے دینی غذا بھی ہے اور ان کے درمیان اتحاد و اجتماعیت کا ذریعہ بھی۔ وہ اسلامی زندگی کا نشان بھی ہے اور نظم و ضبط کی تربیت بھی۔ وہ اللہ سے روحانی اتصال کا مقام بھی ہے اور روز مرہ کی زندگی میں حرکت و عمل کا سبق بھی۔ نماز اپنی شکل کے اعتبار سے مخصوص عبادت کا نام ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے تواضع اور توجہ الی اللہ کا۔ اپنے مقابلہ میں کسی کی عظمت تسلیم کرنے کے لئے آدمی زبان سے جو آخری کلمہ بول سکتا ہے وہ یہ کہ وہ کہے ’’وہ سب سے بڑا ہے‘‘۔ نماز میں بار بار یہ کلمہ (اللہ اکبر) خدا کے لئے بولا جاتا ہے اور اس طرح اپنے مقابلہ میں خدا کی مطلق کبریائی کا لسانی اقرار کیا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر کسی کی بڑائی کے اعتراف کی آخری صورت سجدہ ہے۔ سجدہ سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہو سکتی جس سے آدمی دوسرے کی عظمت کا جسمانی اعتراف کرے۔ نماز میں بار بار خدا کے آگے سجدہ کرکے خدا کی بے مثال عظمتوں کا عملی اعتراف کیا جاتا ہے۔ کسی کو اپنی زندگی کا مرکز محور بنانے کی سب سے زیادہ کامیاب ہیئت جو تصور کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے چہرے کا رخ پوری طرح اس کی طرف کر دے۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف رخ کا اہتمام کر کے ظاہر کیا جاتا ہے کہ بندے نے اپنی زندگی کو خدا کی طرف موڑ دیا ، اس نے اپنی زندگی کو اندر سے لے کر باہر تک خدا رخى (God-Oriented) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اللہ کے آگے بندے کے اس جھکاؤ سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ صرف خدا کے سامنے جھکاؤ تک نہیں رہتی، وہ اس کی مستقل کیفیت بن جاتی ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرنے لگے، جو اللہ کے آگے جھک جائے جو اللہ کے مقابلہ میں اپنے کو بے حقیقت بنا لے وہ بندوں کے سامنے آئے گا تو نا ممکن ہے کہ یہاں اس کے رویہ میں اس کے عبادتی اثرات ظاہر نہ ہوں۔ وہ انسان کے آگے سجدہ میں نہیں گرے گا مگر وہ انسان کے مقابلہ میں گھمنڈ بھی نہیں دکھائی کا۔ وہ انسان کو ’’تو بڑا ہے، نہیں کہے گا مگر اپنی بڑائی کا سکہ اس پر قائم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ نماز میں اس کا ساجد ہونا بندوں کے مقابلہ میں تواضع کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ نماز میں اس کا خدا کی تابعداری کا اقرار کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page