انسان کی تلاش
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو زندگی بھر ناکامی و نا مرادی کے احساس سے دوچار رہتے ہیں۔ تاہم وہ لوگ جن کو دنیا میں بہترین مواقع ملے۔ جنھوں نے سمجھا کہ وہ اپنی خوشیوں کی بہاریں اسی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا خاتمہ بھی اکثر ترین مایوسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ حادثہ ، بیماری ، منصوبوں کا ناکام ہو جانا۔ اور اگر بالفرض کوئی ان ناخوش گواریوں سے بچ جائے تو آخر میں موت۔ کتنے لوگ ہیں جو "کامیابی کے ساتھ" اپنا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر موت عین اس وقت ان کی تمناؤں کے محل کو ڈھا دیتی ہے جب کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے دروازے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کیا انسان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ انتہائی قیمتی صلاحیتیں لے کر آئے اور بالآخر ایک بدترین ناکامی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر آخرت کو حذف کر کے زندگی کو دیکھا جائے تو زندگی ایک المناک ڈرامے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتی۔ ہم خواہ کچھ بھی کریں، موجودہ دنیا میں ہم اپنی آرزوؤں کی جنت تعمیر نہیں کر سکتے۔ ہماری محدودیتیں فیصلے کن طور پر ہماری راہ میں حائل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آخرت کا عقیدہ ہے جو انسانی زندگی کو با معنی بناتا ہے۔ آخرت کے عقیدہ میں ہم اپنی اس منزل کو پالیتے ہیں جس کی طرف ہم یقین کے ساتھ سفر کر سکیں، جہاں ہم اپنی کوششوں کا انجام پانے کی قطعی امید کر سکیں ۔ آخرت کو نہ ماننے والے کو اپنے سامنے مایوسی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جب کہ آخرت کو ماننے والا اپنے سامنے امیدوں کا اتھاہ مستقبل دیکھتا ہے۔ زندگی آخرت کے بغیر انتہائی بے معنی ہے مگر زندگی آخرت کے ساتھ اتنی با معنی ہو جاتی ہے کہ انسانی زبان میں وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کو بیان کر سکیں ہالی وڈ (امریکہ ) عیش پسندوں کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنت ہے۔ ساری دنیا کے "مححروم" لوگ ان "پائے ہوئے" لوگوں پر رشک کرتے ہیں جن کو اس جنت ارضی میں کوئی حصہ ملا ہو۔ مگر ہالی وڈ کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بظاہر قابل رشک لوگ بے حد قابل رحم حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جنت ارضی کے انتہائی خوش قسمت لوگ، سب کچھ پالینے کے بعد بالآخر اکتاہٹ Boredom کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی کاریں ہوتی ہیں کہ بسا اوقات ان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آج اپنی مختلف کاروں میں سے کس کار میں بیٹھ کر جائیں۔ تاہم ان کی بے اطمینانی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ آپس میں اپنے مکان حتیٰ کہ بیویوں کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ تنوع کے ذریعہ اپنی اکتاہٹ کو کم کر سکیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان لا محدود اطمینان چاہتا ہے۔ دنیا کی چیزیں اس کو صرف محدود اطمینان دیتی ہیں اس لئے وہ اس کی تسکین نہیں بنتیں۔ یہ صرف خدا ہے جو انسان کی طلب کا حقیقی اور ابدی جواب ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب سن لو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔ اللہ کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ اس ہستی میں اپنا دل لگایا جائے جو حقیقی اور ابدی ہے۔ اپنی امیدوں اور حوصلوں کو اس عالم سے وابستہ کیا جائے جو ان تمام کمیوں سے پاک ہو گی جن کی وجہ سے موجودہ دنیا ہمارے خوابوں کی تعبیر نہیں بننے پاتی۔ جو آدمی اللہ کو پا لیتا ہے وہ گویا اپنا سب کچھ پا لیتا ہے۔ دنیا میں اگر اس کو تکلیف پہنچے تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے وہ بالآخر اس کو منزل تک پہنچانے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader