Urdu book · اسلام دینِ فطرت

آدمی کا امتحان

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے اندر ابلیس والی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ "میں اس سے بہتر ہوں، میں کیوں اس کے سامنے جھکوں"، یہ احساس، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ جس خدا کو سجدہ کر رہا ہوتا ہے، اس خدا کے حکم کے باوجود "آدم" کے آگے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان ایک معاملہ پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا ناحق پر۔ جو شخص حق پر ہے وہ گویا دوسرے شخص کے لئے وقت کا "آدم" ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان اس صورت حال کا پیدا ہونا ہی خدا کا یہ حکم آ جانا ہے کہ میرے بنائے ہوئے اس آدم کے سامنے میری خاطر جھک جاؤ۔ اب جو شخص اپنے حریف کے حق کو مانتے ہوئے اس کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دے، اس نے فرشتوں کی پیروی کی۔ اور جس شخص کے لئے اس کی میں" حق کے اعتراف میں مانع ہو جائے، جو اس ذہن کے تحت حق دار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے کہ میری پوزیشن مضبوط ہے، یہ شخص میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا کے سامنے سجدہ کرنا اس کی نجات کا سبب نہیں بن سکتا۔ خدا کے آگے سجدہ صرف اس شخص کا معتبر ہے جو خدا کے حکم کی تعمیل میں اس کے بنائے ہوئے "آدم" کے سامنے بھی جھکنے پر راضی ہو جائے۔ جو یہ کہے کہ میں خدا کے لئے سجدہ کروں گا مگر آدم کے سامنے نہیں جھکوں گا، وہ ابلیس کا بھائی ہے۔ اس کے سجدہ کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس نے "آدم" کے سامنے جھکنے سے انکار کر کے کبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور جو اپنے اندر کبر کی نفسیات کی پرورش کرے اس کا کوئی عمل خدا کبھی قبول نہیں کرتا۔ پہلے انسان (آدم) کا قصہ خدا کے سامنے براہ راست پیش آیا تھا۔ اب دنیا کی زندگی میں ہر آن یہی قصہ خدا کے غیب میں پیش آ رہا ہے۔ آج خدا ہمارے سامنے عیاناً موجود نہیں ہے۔ آج جو چیز خدا کی جگہ پر ہے وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کا طریقہ ہے اور اسی کے ساتھ آدمی کا اپنا ضمیر ہے جو اندر سے اس کو آواز دیتا ہے ہر روز جب کسی انسان سے ہمارا سابقہ پیش آتا ہے اور یہ تقاضہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے حق کا اعتراف کریں، خواہ یہ تقاضہ لفظی اعتراف کا ہو یا کسی عمل کا، اس وقت گویا خاموش زبان میں خدا کا حکم ہمارے پاس آجاتا ہے۔ خدا کہتا ہے کہ اس "آدم" کا حق تمھارے اوپر آتا ہے اس کو ادا کرو۔ الفاظ دیگر، اس کے سامنے جھک جاؤ۔ اگر لفظی اعتراف کا معاملہ ہے تو لفظوں میں اس کی صداقت کا اعتراف کرو۔ اگر عملی حق کا معاملہ ہے تو عملی طور پر اس کا حق ادا کرو۔ ایسے موقع پر جو لوگ خدا کی خاموش آواز پر کان لگائیں اور فوراً اپنے آپ کو اس کی تعمیل کے لئے پیش کر دیں، وہ امتحان میں سچے اترے۔ اور جو لوگ "میرا درجہ بڑا ہے"، "میں اس سے بہتر ہوں"، "میں زیادہ طاقتور ہوں"، جیسی نفسییات میں مبتلا ہو جائیں اور اپنے "آدم" کے آگے جھکنے سے انکار کر دیں، وہ امتحان میں پورے نہیں اترے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لئے فرشتوں والا انجام ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لئے ابلیس والا انجام۔ انسان سے اصلآ جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ وہ خدا کے سامنے سجدہ کرے ۔ مگر کوئی شخص حقیقتۂ خدا کا ساجد بنا یا نہیں ، اس کا امتحان اس کو "آدم" کے سامنے جھک کر دینا ہے۔ خدا کا ساجد اور عابد وہی ہے جو خدا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page