Urdu book · اسلام ایک عظیم جدوجہد

ہجرت

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے وہ سب کی سب اصلاً جائز ہیں اور ان میں سے کوئی بھی فی نفسہ حرام نہیں ہے۔ مگر مومنین سے کہا گیا ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھیں اور جو لوگ ایسا نہ کریں وہ فاسق (یعنی عہد شکن) قرار دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ ہمارے پیشِ رو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کیا تھا جنہوں نے نبی آخر الزماں کے ذریعہ اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ وہ دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں اپنی ساری قوت لگا دیں گے۔ جب صحابہ کرام کے اس عہد پر بیس سال کی مدت گزر گئی اور انھوں نے مسلسل قربانیوں کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ دین کو قائم کرنے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تو غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ۹ھ میں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں ان کی کوششوں کی قبولیت کا اعلان فرمایا: اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (9:111)۔ یعنی، اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے رہے ہیں پھر مارتے رہے ہیں اور مارے جاتے رہے ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، تو رات میں، انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس خوش ہو جاؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ یہ ہجرت یا دوسرے لفظوں میں جائز مفادات کی قربانی انسان کی خدا پرستی کا امتحان بھی ہے اور اسی کے ذریعہ سے خدا کا دین بھی خدا کی زمین پر قائم ہوتا ہے۔ یہ اقامت دین کی جدو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page