تمہید
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بھونچال قرآن کی سورہ نمبر ۹۹ میں ارشاد ہوا ہے ــــ جب زمین شدت سے ہلادی جائے گی۔ اور زمین اپنا بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔ اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی۔ کیوں کہ تمہارے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گے، تاکہ ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ پس جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا (الزلزال ۸-۱) قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھین گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انھیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خدا کی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی "بولنے" کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور رریکارڈ پُوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہو رہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرادے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ دنیا میں انسان کے رویہ کو درست کرنے کے لیے صرف ایک ہی چیز کافی ہے۔ آدمی کو اس بات کا پختہ شعور ہو جائے کہ وہ ہر لمحہ خدا کی نگرانی میں ہے۔ اس کا پورا کارنامہ حیات خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ چھوٹا عمل ہو یا بڑا عمل، چھپ کر کیا ہوا کام یا علانیہ کیا ہوا کام، سب کا سب وہاں سامنے آجاے گا۔ آدمی کو اس حقیقت کا پورا یقین ہو جائے تو زمین کے ہلائے جانے سے پہلے وہ خود ہل جائے گا۔ قیامت کے عام زلزلے سے پہلے خود اس کی اپنی روح میں ایک ایسا زلزلہ آجاے گا جو اس کو آخری حد تک بدل کر رکھ دے۔ اس کے بعد آدمی خود اپنا نگراں بن جائے گا۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی اختیار کرلے گا۔ وہ اپنے اختیار کو خدا کے حکم کے تحت استعمال کرے گا نہ کہ آزادانہ طور پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader