تمہید
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث رسول قرآن لفظ اور معنیٰ دونوں کے اعتبار سے خدا کا کلام ہے۔ حدیث اس مجموعہ کو کہا جاتا ہے جو معنیٰ کے اعتبار سے خدا کی بات ہے مگر لفظ کے اعتبار سے وہ رسولؐ کی اپنی زبان سے ادا ہوئی ہو۔ گویا کہ قرآن براہ راست طور پر خدا کا ہدایت نامہ ہے اور حدیث بالواسطہ طور پر خدا کا ہدایت نامہ۔ حدیث کی بہت سی کتابیں ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابیں وہ ہیں جو خصوصی طور پر زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مثلاً ــــــــ صحیح البخاری، صحیح مسلم، جامع الترمذی، سنن ابی داؤد، سنن النسائی، سنن ابی ماجہ، موطا الامام مالک، مسند الامام احمد۔ حدیث، قرآن مجید کی تشریح اور تفصیل ہے۔ قرآن میں زیادہ تر اصولی احکام بیان کیے گئے ہیں، ان احکام کی تفصیلات حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح نظری احکام کا عملی ڈھانچہ بھی حدیث ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ حدیث کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ اس کو قرآن سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارہ میں تعلیمات اور احکام موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ نیت اور کیفیت کے اعتبار سے ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاہیے ۔ عبادت کا تفصیلی طریقہ کیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں لوگوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کیا جائے ۔ زبان کا استعمال کس طرح کیا جائے، کھانے پینے کے حدود کیا ہیں۔ خاندانی نظام کا ڈھانچہ کس طرح بنایا جائے، اجتماعی تعلقات کی بنیاد کیا ہو۔ صلح و جنگ کے ضابطے کیا ہیں، مسلمانوں کا اگر کوئی اسٹیٹ ہو تو اس کو کس طرح چلایا جائے، وغیرہ۔ اس طرح کے تمام معاملات جو انسانی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے اوپر دنیا و آخرت کی کامیابی کا انحصار ہے وہ سب تفصیل کے ساتھ حدیث کے ذخیرہ میں موجود ہیں۔ حدیث کے مطالعہ کے بغیر نہ اسلام کا مطالعہ مکمل ہوتا ہے اور نہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی کا نقشہ بنایا جا سکتا۔ قرآن کے بعد اسلام کا سب سے بڑا ماخذ حدیث ہے۔ کسی حدیث کے بارہ میں جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ پیغمبر اسلام کی حدیث ہے تو اس کو ماننا اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے جتنا کہ قرآن کو ماننا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader