دین رحمت
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
حسنِ اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ قیامت کے دن مومن کی ترازو میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھا اخلاق ہوگا۔ اور خدا اس شخص سے نفرت کرتا ہے جو بے حیائی کی بات بولے اور بد زبانی کرے ( قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنَّ أثقل شيء في ميزانِ المؤمن يومَ القيامةِ خُلقٌ حسنٌ، وإنَّ اللهَ يُبغض الفاحِش البذيء ) ( ترمذی ) اخلاق انسان کی پہچان ہے۔ جیسا اخلاق ویسا انسان۔ کوئی آدمی اچھا لباس پہن کر اچھا آدمی نہیں بنتا۔ یہ دراصل اچھا اخلاق ہے جو کسی انسان کو اچھا انسان بناتا ہے۔ انسانی اخلاق کی پہچان سب سے پہلے اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ زبان آدمی کی اندرونی شخصیت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ کوئی آدمی اپنی اندرونی شخصیت کے اعتبار سے جیسا ہوگا ویسا ہی وہ اپنی زبان پر ظاہر ہوگا۔ جس آدمی کے اندر انسانیت ہو، وہ تواضع اور ہمدردی کے احساسات میں جی رہا ہو، جو اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہو کہ اس کے اوپر دوسروں کے حقوق ہیں اور ان حقوق کو بہ ہر حال ادا کرنا ہے۔ ایسا آدمی جب کلام کرے گا تو اس کی زبان میں دوسروں کی رعایت شامل ہوگی۔ وہ بہ ہر حال میں انصاف کی بات بولے گا۔ اس سے دوسروں کو میٹھے کلام کا تحفہ ملے گا۔ اس کے برعکس جس آدمی کے دل میں کبر ہو، جس کا سینہ ذمہ داری کے احساس سے خالی ہو، جو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنا نہ جانتا ہو۔ ایسا آدمی جب دوسروں سے کلام کرے گا تو اس کے کلام میں بے حسی ہوگی۔ اس کے الفاظ بد خواہی کی کڑواہٹ لیے ہوئے ہوں گے۔ دوسروں کی طرف سے اس کے خلاف کوئی سخت بات پیش آ جائے تو وہ فوراً اشتعال ہو جائے گا اور بدگوئی اور بدگمانی کا اندازہ اختیار کرلے گا۔ اچھا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان پھول کی طرح رہے۔ اور برا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ لوگوں کے لیے کانٹا بنا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader