Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

بہترین اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ کیا میں تم کو بتاؤں کہ دنیا و آخرت میں لوگوں کا بہترین اخلاق کیا ہے۔ کہا گیا کہ ہاں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو، جو تم کو محروم کرے تم اسے دو، اور جو تمہارے اوپر زیادتی کرے تم اسے معاف کرو (عن عقبۃ بن عامر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا اخبرک بافضل اخلاق اھل الدنیا و الآخرة قال نعم قال تصل ممن قطعك وتعطی من حرمك وتعفو عمن ظلمك) البیہقی دنیا میں آدمی کو بار بار تلخ تجربے پیش آتے ہیں۔ کوئی شخص ایک بات پر ناراض ہو کر آپ سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ کوئی شخص آپ کو محرومی کا تجربہ کرتا ہے۔ کوئی شخص آپ کے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر جوابی غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ چاہنے لگتے ہیں کہ جس سے انھیں تلخ تجربہ پیش آیا ہے اس کو بھی اپنی طرف سے تلخ تجربہ کرائیں تاکہ اس کو سبق حاصل ہو۔ مگر یہ اعلی انسانی سوچ نہیں۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اپنی عقل سے سوچے ، جس کا رویہ خود اپنے سوچے سمجھے اصول کے تحت متعین ہوتا ہو نہ کہ دوسروں کے رد عمل کے تحت ۔ ایسے انسان کا ذہن دوسروں کے رویے سے برہم نہیں ہوتا۔ اس کی فکری پختگی اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ رد عمل سے اوپر اٹھ کر اپنے لیے جینے کی سطح پالے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے ، خواہ ان کی طرف سے اس کو برے سلوک کا تجربہ ہوا ہو۔ اس کی بلند فکری اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جڑا رہے جو اس کے ساتھ تعلق توڑنے کا معاملہ کرتے ہوں۔ وہ ان لوگوں کو بھی دینے میں خوشی محسوس کرے جو اس کو نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے ہوں۔ کوئی شخص اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرے تب بھی اس کا دل تنگ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک طرفہ طور پر ایسے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ۔ اعلیٰ اخلاق با اصول انسان کا طریقہ ہے، اور بہتر اخلاق بے اصول انسان کا طریقہ ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page