Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

کرائٹیرین کا مسئلہ کرائٹیرین (معیار) کا مسئلہ بے حد اہم مسئلہ ہے۔ بیشتر فکری گمراہیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں کرائٹیرین واضح نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو صحیح سمجھ رہا ہوتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو جانچنے کے لیے غلط کرائٹیرین استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کو درست کرائٹیرین پر جانچنے تو وہ جان لے گا کہ اس کی سوچ صد فی صد غلط ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے جب حضرت عمر فاروق رضہ کو امیر المومنین مقرر کیا تو بیشتر صحابہ اس رائے سے اتفاق نہ کر سکے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ عمر ایک سخت گیر انسان ہیں اور سخت گیر انسان کو امیر المومنین نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت ابو بکر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ وہ سخت گیر ہیں مگر "سريرته خير من علانيته" ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عمر فاروق کی امارت کے مخالف تھے وہ اپنی رائے کے حق میں غلط کرائٹیرین استعمال کر رہے تھے۔ امیر کے لیے اصل کرائٹیرین یہ نہیں ہے کہ وہ سخت ہے یا نرم۔ اس کے بجائے اصل کرائٹیرین یہ ہے کہ وہ نیک نیت ہو۔ وہ خدا سے ڈرنے والا ہو۔ وہ اپنے اندر بصیرت کی صفات رکھتا ہو۔ وہ حق اور نا حق میں فرق کرنا جانتا ہو۔ صحیح کرائٹیرین (معیار) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ خلافت کے لیے حضرت عمر فاروق رضہ کا انتخاب نہایت درست تھا۔ کیوں کہ خلیفہ کی سب سے اہم صفت اس کا مدبر ہونا ہے، اور یہ صفت ان کے اندر پوری طرح موجود تھی۔ اس کے برعکس اگر اس معاملے کو غلط کرائٹیرین سے دیکھا جائے تو ایک شخص کہے گا کہ خلافت کے لیے عمر فاروق کا انتخاب درست نہ تھا کیوں کہ ان کے مزاج میں بہت زیادہ شدت تھی۔ حالاں کہ یہ کرائٹیرین ہی اس معاملے میں بجائے خود درست نہیں۔ جیسا کام ہو ویسی ہی اہلیت درکار ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page