حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو غزوات پیش آئے ان میں سے ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر عرب کے قبائل بڑی تعداد میں اکٹھا ہو کر مدینہ آئے۔ انھوں نے چاہا کہ مدینہ پر حملہ کر کے اس کو تباہ کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ مخالف قبائل بڑی تعداد میں مدینہ کی طرف آ رہے ہیں تو آپ نے فوراً یہ تدبیر کی کہ مدینہ کے اطراف میں خندق کھودنا شروع کر دیا۔ قبائل کا لشکر جب مدینہ کے پاس پہنچا تو یہاں خندق کھدی ہوئی تھی۔ وہ لوگ آسانی سے خندق کو پار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے خندق کے دوسری طرف پڑاؤ ڈال دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو باہر سے للکارتے رہے۔ مگر آپ ان سے جنگ کے لیے نہیں نکلے۔ آپ اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ خندق کے دوسری طرف محفوظ طور پر رہ کر آنے والے وقت کا انتظار کرتے رہے۔ اس طرح تقریباً تین ہفتے گزر گئے۔ آخر کار فطرت کی طاقتیں حرکت میں آئیں۔ ایک دن زبردست آندھی چلی۔ مخالف لشکر کے خیمے اکھڑ گئے۔ ان کے کھانے کی دیگیں اڑ کر دور جاگریں ۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ چنانچہ مخالفین کا لشکر گھبرا کر واپس چلا گیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی پالیسیوں میں سے ایک پالیسی یہ ہے کہ کوئی نا موافق صورت حال پیش آئے تو فوری اقدام نہ کیا جائے بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ عین ممکن ہے کہ انتظار خود ایک حل بن جائے اور آئندہ ایسے حالات پیش آئیں کہ اقدام کے بغیر مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے۔ فطرت کا نظام ایک خدائی نظام ہے۔ فطرت کے نظام کی صورت میں کائنات خود ہر آن فساد کو اصلاح کی صورت میں بدلنے کے لیے سرگرم ہے۔ انسان اگر صبر کی روش اختیار کرے اور ناخوش گوار مواقع پر انتظار کی پالیسی پر قائم رہے تو وہ دیکھے گا کہ فطرت کی طاقتوں نے متحرک ہو کر اس کا وہ کام زیادہ بہتر طور پر انجام دے دیا ہے جس کو وہ اپنے کمتر وسائل کے ذریعہ صرف ناقص طور پر انجام دینا چاہتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader