حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
مینیمم سے آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۵۷۰ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی وفات ۶۳۲ء میں مدینہ میں ہوئی۔ پہلی وحی آپ پر ۶۱۰ء میں نازل ہوئی۔ اس وقت مکہ میں بہت سے نہایت سنگین قسم کے مسائل تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اجتماعی معاملات کے فیصلے کا مرکز دار الندوہ مشرکوں کے قبضہ میں تھا، معاشرہ میں بدکاری، شراب، جوا جیسے سخت جرائم پھیلے ہوئے تھے۔ ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر نے عربوں کو اپنے ماتحت کا درجہ رکھا تھا۔ وغیرہ۔ مگر آپ پر جو پہلی وحی اتری اور جس میں حکم دیا گیا کہ آپ ان حالات میں کیا کریں۔ اس میں ان مسائل میں سے کسی مسئلہ کا ذکر نہیں تھا۔ اور ان کے بارہ میں آپ کو کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ آپ سے سادہ طور پر صرف یہ کہا گیا : اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الانسان من علق - اقرأ و ربك الأكرم الذي علم بالقلم - علم الانسان ما لم يعلم - اس وقت کے مسائل کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ کم سے کم (minimum) کا حکم تھا۔ مذکورہ مسائل کے بارے میں اگر آپ کو حکم دیا جاتا اور آپ اس کے لیے عمل شروع کر دیتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ فوراً اگر دو پیش کے لوگوں سے آپ کا شدید ٹکراؤ شروع ہو جاتا۔ مینیمم سے آغاز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب کہ زیادہ سے آغاز کا نتیجہ اکثر حالات میں الٹا بر آمد ہوتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں کامیاب ہونے کی شرط یہ ہے کہ صحیح مقام سے اُس کا آغاز کیا گیا ہو۔ اور صحیح کا آغاز وہی ہے جو ممکن ہو۔ ممکن سے آغاز ہی دراصل صحیح آغاز ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مینیم ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں میکسی مم سے آغاز ہمیشہ نا ممکن اور نا قابلِ عمل ۔ مینیمم سے آغاز کا مطلب کم سے آغاز نہیں ہے بلکہ ممکن سے آغاز ہے۔ اسی طرح میکسی مم سے آغاز کا مطلب زیادہ سے آغاز نہیں ہے بلکہ نا ممکن سے آغاز ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader