حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل اعتماد کردار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کے تیرہویں سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ وہی سفر ہے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حد نازک سفر تھا۔ مکہ کے سردار آپ کو مار ڈالنے پر تلے ہوئے تھے۔ آپ کو نہایت مخفی طور پر مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچنا تھا۔ یہ یقینی تھا کہ جب آپ کسی سے نکل کر مدینہ کے لیے روانہ ہوں گے تو مکہ کے سردار آپ کے پیچھے اپنے آدمی دوڑائیں گے، وہ ہر کوشش کریں گے کہ آپ کو دوبارہ پکڑ لیں۔ ان حالات میں مختلف قسم کی احتیاط ضروری تھی۔ مثلاً مکہ سے نکل کر الٹی طرف جانا، پہلے غارِ ثور میں قیام کرنا۔ ابتداً پیدل سفر طے کرنا اور پھر راستہ میں اونٹ کی سواری اختیار کرنا، معلوم اور معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر عادی راستہ کا سفر کرنا، وغیرہ۔ قدیم زمانہ میں جب کہ سڑکیں نہیں تھیں، اس طرح کا سفر ایک واقف کار رہنما کی مدد ہی سے ہو سکتا تھا، رہنا کے بغیر ایسا سفر طے کرنا نا ممکن تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق نے اس سفر میں رہنمائی کے لیے مکہ کے ایک شخص کو منتخب کیا جس کا نام عبداللہ بن اریقط تھا۔ یہ آدمی اس طرح کے لمبے سفروں میں بطور پیشہ رہنمائی کا کام کیا کرتا تھا۔ وہ اگر چہ مشرک تھا، بالفاظِ دیگر، اس کا تعلق آپ کی دشمن قوم سے تھا۔ اس کے با وجود آپ نے اس نازک سفر کے لیے اسی کا انتخاب فرمایا (سیرۃ ابن ہشام ۴ صفحہ ۹۸) اس انتخاب کا سبب کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ بن اریقط اگر چہ مخالف قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس کے اندر وہ چیز کمال درجہ میں تھی جس کو پروفیشنل دیانت داری کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے کام کے بارے میں وہ پوری طرح مخلص تھا۔ وہ جس خدمت کی ذمہ داری کو قبول کرتا اس کو ٹھیک ٹھیک انجام دیتا تھا۔ کام کے معاملہ میں وہ نہ عقیدہ کور کاوٹ بناتا اور نہ کسی ذاتی مفاد کو۔ پروفیشنل دیانت داری کی یہ صفت آدمی کو سب کی نظر میں قابل اعتماد بنا دیتی ہے، حتیٰ کہ اس کے مخالفین بھی اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا قول لوگوں کی نظر میں چٹان کی طرح مضبوط بن جاتا ہے، وہ اپنے اور غیر سب کی نظر میں عزت کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader