Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

منصوبہ بند عمل قرآن کی سورہ نمبر ۴۶ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو ( فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لهم ) الاحقاف ۳۵ زندگی مشکلات اور مسائل کے درمیان جینے کا نام ہے۔ خاص طور پر جو آدمی کوئی مقصد یا مشن لے کر اٹھے اس کے لیے تو قدم قدم پر رکاوٹیں اور مخالفتیں پیش آتی ہیں۔ اس کو طوفانوں کے درمیان اپنا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ جب کوئی مخالف صورت حال سامنے آئے تو فوری رد عمل کے تحت اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مخالف صورت حال پیش آنے کے بعد آدمی اپنے جذبات کو تھامے ۔ وہ پورے معاملہ پر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ غور و فکر کرے۔ اسی کے ساتھ وہ صاحب مشورہ لوگوں سے مشورہ بھی کرے۔ اس کے بعد سوچے سمجھے فیصلے کے مطابق جوابی کارروائی کرے ـــــ پہلے طریقہ کا نام عجلت ہے اور دوسرے طریقہ کا نام صبر۔ عجلت کے تحت کیا ہوا اقدام ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے اقدام میں صورت حال کا پورا جائزہ شامل نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی نہ اپنی طاقت کا صحیح اندازہ کرتا ہے اور نہ فریق ثانی کی طاقت کا۔ وہ نتیجہ کی پروا کیے بغیر فوری طور پر مقابلہ کے میدان میں کود پڑتا ہے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ اسباب کا لحاظ کیے بغیر اس دنیا میں جو اقدام کیا جائے وہ کبھی کامیابی کے درجہ تک نہ پہنچے۔ صبر کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ جو آدمی صبر کا طریقہ اختیار کرے وہ کارروائی سے پہلے اس کے انجام کو سوچتا ہے ، وہ جذبات کی رعایت کرنے کے بجائے حقیقت کی رعایت کرتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں فطرت کے قانون کی حکمرانی ہے ، نہ کہ اس کی اپنی خواہشوں اور تمناؤں کی۔ صبر یہ ہے کہ آدمی جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ ذاتی خواہشوں سے غیر متاثر ہو کر فطرت کے نظام کو سمجھے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ منصوبہ بند عمل کر سکے اور اس دنیا میں کامیاب عمل وہی ہے جو منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page