Urdu book · اسلام ایک تعارف

حکمتِ اسلام

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی ارتقاء ترمذی نے حضرت سعید الخدری کی ایک روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــ مومن خیر کی بات سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ جائے ( لن يشبع المؤمن من خير يسمعه ، حتى يكون منتهاه الجنة ) جامع الاصول في احاديث الرسول ۸ صفحہ ۹ آدمی کو چاہیے کہ سیکھنے کا جذبہ اس کے اندر مسلسل بیدار رہے۔ وہ ہمیشہ نئی بات سیکھنے کا خواہش مند ہو ۔ وہ اپنے تجربہ اور واقفیت میں ہر روز اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اسی حال میں اس پر موت آجائے۔ معلومات کی دنیا لا متناہی حد تک وسیع ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے ایک سچا انسان کبھی نئی نئی باتیں سیکھنے سے سیر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے دماغ کے خزانہ میں ہر صبح و شام اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہی اضافہ انسانی ترقی کا راز ہے۔ اس طرح آدمی کا ذہنی ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے۔ وہ سوچنے اور عمل کرنے کے نئے راستے دریافت کرتا رہتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی حقیقت آتی ہے تو وہ فوراً اس کو اس کی گہرائی تک سمجھ لیتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ کامیاب معاملہ کا طریقہ کیا ہے۔ اس کے سامنے ایک راستہ بند ہوتا ہے تو وہ اپنے سفر کو جاری رکھنے کے لیے فوراً ہی دوسرا راستہ پال لیتا ہے۔ ایسے آدمی کی بڑھی ہوئی ذہنی استعداد اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ وہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔ وہ چیزوں کو ویسی ہی دیکھتا ہے جیسی کہ وہ ہیں، نہ کہ دکھانے والے جس روپ میں اس کو دکھادیں۔ ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ شبہات کا پردہ پھاڑ کر سچائی کو دیکھے۔ وہ مغالطہ اور استدلال کے درمیان فرق کر سکے۔ وہ جان لے کہ جذباتی نقطہ نظر کیا ہے اور عقلی نقطہ نظر کیا۔ ایسے آدمی کے اندر وہ چیز پرورش پاتی ہے جس کو تخلیقی ذہن کہا جاتا ہے ۔ وہ چیزوں کو از سر نو دریافت کرتا ہے، وہ تقلید سے اوپر اٹھ کر مجتہدانہ رائے بنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بھی زیادہ بہتر طور پر جان لیता ہے، اور دوسروں کے بارہ میں بھی اس کے اندر زیادہ صحیح پہچان پیدا ہو جاتی ہے۔ عام انسان اگر صرف انسان ہوتا ہے تو ایسا آدمی پورے معنی میں ایک ترقی یافتہ انسان۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page