حکمتِ اسلام
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کی طلب حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے (حسن السوالی نصف العلم) ادیب الدنیا والدین للبصری ، صفحہ 11 اچھا یا گہرا سوال کون کرتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اس مسئلہ پر غور کیا ہے، جس کی بابت وہ سوال کر رہا ہے۔ مسئلہ کے بارہ میں اچھی واقفیت کے بغیر کوئی اچھا سوال نہیں کر سکتا۔ اچھا سوال اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی علم کے نصف حصہ کو پا چکا ہے، اور اب جواب دینے والے کا کام یہ ہے کہ وہ بقیہ نصف کے بارہ میں بتا کر اس کی واقفیت کو مکمل کر دے۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے پاس علم کا جو ذخیرہ ہے۔ اس کو اپنے لیے حاصل کریں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ اپنی علمی استعداد کو بڑھانے کے بعد ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے سے واقعی استفادہ کر سکے۔ یا کسی کی لکھی ہوئی کتاب کو پڑھ کر اس کی معلومات کو اپنے ذہن میں اتار سکے۔ سوال اور جواب یا سیکھنا اور سکھانا یہ ایک طرفہ عمل نہیں ہے بلکہ وہ دو طرفہ عمل ہے۔ یعنی سوال کرنے والا یا سیکھنے والا ذہنی طور پر جتنا زیادہ تیار ہوتا نا ہی زیادہ وہ جواب دینے والے یا سکھانے والے کی بات کو سمجھے گا اور اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رفٹی رفٹی کا معاملہ ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس علم کا نصف حصہ موجود ہو تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دوسرا شخص آپ کو علم کا بقیہ نصف حصہ دے سکے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے نہ کہ ایک طرفہ معاملہ۔ دنیا علم سے بھری ہوئی ہے۔ اس کا ایک دریا اہل علم اور اہل دانش لوگ ہیں۔ اس کا دوسرا دریا وہ کتابیں ہیں جو دنیا کے بہترین دماغوں نے لکھی ہیں اور وہ چھپ کر کتب خانوں میں اکٹھا ہو گئی ہیں۔ اس کا تیسرا ذریعہ ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات ہے، اس کا ہر جز اپنے اندر معرفت کا ایک چھپا ہوا خزانہ لیے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص علم کا طالب ہو وہ کسی بھی لو کسی بھی مقام پر اپنے لیے علم کا ایک کھلا ہوا خزانہ پالے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں علم کا طالب ہو، وہ اپنے اندر پانے کا استحقاق پیدا کر چکا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader