Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

فلاحی معاشرہ قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو توڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے (البقرہ ۲۷) انسان جب سماجی زندگی میں رہتا ہے تو سماج کے ہر فرد سے اس کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے اپنے گھر کے افراد سے لے کر حکمران طبقے کے افراد تک، ہر ایک سے وہ خاموش عہد میں جڑا ہوا ہوتا ہے۔ سماجی زندگی ایک قسم کا معاہدہ ہے۔ ہر آدمی اس میں جڑا ہوا ہے۔ خواہ اس نے اس کا اعلان کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس عہد کے تقاضے کو پورا کرنے سے ایک فلاحی معاشرہ بنتا ہے۔ اور جس سماج کے افراد اس عہد کے تقاضے کو توڑتے رہیں وہ سماج تباہی و بربادی کا سماج بن جائے گا۔ رشتہ اور خاندان کے درمیان اس تعلق کا نام صلہ رحمی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے کا نام قطع رحم۔ اسی طرح پڑوس کے لوگوں کے ساتھ آدمی کو حقوق ادا کرنے والا بننا ہے نہ کہ حقوق کو توڑنے والا۔ اسی طرح پورے سماج میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ آدمی اس کا ایک نافع بخش ممبر بنے نہ کہ نقصان پہنچانے والا اور مسائل پیدا کرنے والا ممبر۔ اسی طرح ملکی نظام کے ڈھانچے میں اس کو قانون پر چلنے والا شہری ہونا چاہیے نہ کہ قانون کو توڑنے والا۔ یہ دو مختلف قسم کے انسان، دو مختلف قسم کے سماج بناتے ہیں۔ ایک قسم کے انسانوں سے تعمیری سماج بنتا ہے جس کے اندر صالح قدریں پرورش پائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں سے جو سماج بنے وہ ایک بگڑا ہوا سماج ہوگا۔ اس میں برائیوں کو فروغ ہوگا اور نیکیاں دب کر رہ جائیں گی۔ صالح انسانی سماج وہ ہے جو فطرت کے منصوبے کے مطابق ہو۔ اور غیر صالح سماج وہ ہے جو فطرت کے مقرر کیے ہوئے راستے سے ہٹ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page