Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کاراز انسانی فلاح کار از اصولی اعتبار سے صرف ایک ہے: فطرت کے مقرر راستہ پر چلنا اور اس سے کبھی نہ ہٹنا۔ یہی بات قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے تابع دار ہیں (آل عمران ۸۳)۔ انسان اور کائنات دونوں کے لئے خدا نے کامیابی کا ایک ہی راستہ (کورس) مقرر کیا ہے۔ بقیہ کائنات اس راستہ پر مشین کی طرح جبری نظام کے تحت چل رہی ہے۔ انسان کو فطرت کی اس شاہراہ پر خود اپنے اختیار کے تحت چلنا ہے۔ یہی اختیاری پابندی انسان کا شرف ہے۔ اور اسی اختیاری پابندی کی قیمت میں اس کو جنت کا انعام دیا جائے گا۔ زمین پر بہت سی اونچی اونچی چیزیں ہیں۔ مثلاً درخت اور پہاڑ وغیرہ۔ درخت اور پہاڑ بظاہر سیدھے کھڑے ہوئے ہیں مگر وہ اپنا سایہ زمین کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ اخلاقی زبان میں اسی کا نام تواضع ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے تمام رویے میں اسی طرح تواضع کا انداز اختیار کرے۔ چڑیاں صبح وشام زمین کی فضا میں اپنے سریلے نغمے بکھیر رہی ہیں۔ اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اپنے کڑوے بول سے بچائے۔ ایک انسان سے دوسرے انسان کو صرف میٹھا بول سننے کو ملے۔ ستارے اپنے اپنے مدار کے پابند رہتے ہوئے اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو انصاف کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا چاہئے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائڈ لیتا ہے اور آکسیجن لوٹاتا ہے۔ اسی طرح انسان کو برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ سورج نفع بخشی کے اصول پر سرگرم ہے، اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ ہر ایک کو نفع پہنچانے والا بنے۔ کائنات فطرت کے اعلیٰ اصولوں کا ایک بے نقص ماڈل ہے۔ اس ماڈل کو خود فطرت نے وضع کیا ہے۔ انسان کو بھی اسی ماڈل کی پیروی کرنا ہے۔ یہی انسانی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا انسان کے لئے کامیابی کا کوئی اور راستہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page