Urdu book · اسلام ایک تعارف

تمہید

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا پرستانہ زندگی اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو ایسا بنایا جائے کہ وہ دنیا میں خدا پرستانہ زندگی گزارنے لگے ۔ وہ غیر خدا پرستانہ زندگی کو مکمل طور پر چھوڑ دے ۔ بغیر خدا پرستانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی کی دل چسپیاں خدا کے سوا دوسری چیزوں میں لگی ہوئی ہوں ۔ اس کی توجہ کا مرکز مخلوقات ہوں نہ کہ خالق ۔ وہ دوستی کرے تو خدا کے لیے کرے اور دشمنی کرے تو خدا کے لیے کرے ۔ اس کی سوچ اور جذبات کا مرکز پوری طرح خدا کی ذات بن جائے ۔ جب آدمی کسی منزل پر پہنچنے کے لیے ایک راستہ کو اختیار کرتا ہے تو وہ اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ وہ دائیں بائیں مڑے بغیر اپنے راستہ پر چلتا رہے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا ۔ یہی معاملہ انسان اور خدا کا بھی ہے ۔ موجودہ دنیا میں کوئی انسان جب اپنی زندگی کا سفر شروع کرتا ہے تو ایک راستہ وہ ہوتا ہے جو خدا کی طرف جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ دوسرے بہت سے راستے ہوتے ہیں جو ادھر اُدھر مڑکر کسی اور منزل کی طرف جارہے ہوتے ہیں ۔ سچے طالبِ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ خدا والے راستے پر چلتا رہے ، وہ ہرگز دائیں اور بائیں جانے والے راستوں کی طرف نہ مڑے ۔ جو آدمی خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر قائم رہے وہ بلا شبہ خدا تک پہنچے گا ۔ اس کے برعکس جو آدمی اِدھر اِدھر مڑ جائے وہ درمیان میں بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ کبھی خدا تک پہنچنے والا نہیں۔ اِدھر اُدھر کے راستوں پر بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا تابع بن جائے ۔ وہ ظاہری مفاد کو اہمیت دینے لگے ۔ وہ غصہ اور نفرت اور حسد اور انانیت جیسے جذبات کا شکار ہوجائے ۔ وہ بے سوچے سمجھے ہر اس سمت میں دوڑ پڑے جو اسے اپنے سامنے کھلی ہوئی دکھائی دیتی ہوں ۔ اس کے برعکس خدا والا سر یہ ہے کہ آدمی خدا کے احکام پر غور کرے ۔ وہ سنجیدہ فیصلے کے تحت اپنا رخ متعین کرے ۔ وہ آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر اپنی زندگی کے معاملات طے کرے نہ کہ محض وقتی فائدہ یا وقتی محرکات کی بنیاد پر ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page