تمہید
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے والا وقت قرآن کی سورہ نمبرہ میں ارشاد ہوا ہے ۔ اور ہر قوم کے لیے ایک مقررہ مدت ہے۔ پھر جب ان کی مدت آجائے گی تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ اے بنی آدم ، اگر تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کرلی ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے وہ انہیں مل کر رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کے لیے ان کے پاس پہنچیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں۔ وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئے گئے۔ اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بیشک وہ انکار کرنے والے تھے (الاعراف ۳۴-۳۷) انسان کے لیے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہو تو اس کے اوپر گو یا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کبر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے لیے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا بنانے پر راضی کر لے۔ ایسے آدمی کے لیے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی انجام نہیں۔ انسان جب بھی حق کا انکار کرتا ہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتا ہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی اپنی عزت و مقبولیت پر بھروسہ کیے ہوئے ہوتا ہے۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن جب یہ بے بنیاد سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچہ اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader