تمہید
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہنی خول قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ آدمی پر جب ہم انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے ۔ اور پیٹھ موڑ لیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نا امید ہو جاتا ہے۔ کہو کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ (بنی اسرائیل ۸۴-۸۳) ہر انسان پر یہ کیفیت گزرتی ہے کہ جب اس کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ برخود غلط نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہو جاتا ہے اور مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارہ میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر ایسے لوگ کم ہیں جو اس تجربہ کے درمیان اپنی حقیقت کو دریافت کرلیں۔ وہ یہ سوچیں کہ دنیا میں جب کہ انھیں آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلے میں اتنی سرکشی دکھارہے ہیں مگر اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جبکہ قیامت آئے گی ۔ اور ان سے ان کا سارا اختیار چھین لے گی۔ انسان کتنا زیادہ کمزور ہے گروہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتا ہے۔ اور اسی کے مطابق اس کا نقطہ نظر بنتا ہے۔ مگر صحیح نقطہ نظر وہ ہے جو علم الہیٰ کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الہیٰ کے مطابق غلط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے جو اس کا ذہنی خول بنا دیا ہے۔ وہ اس خول کو توڑے تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔ بالمشافہ دیگرود چیزوں کو روحانی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader