Urdu book · اسلام ایک تعارف

تمہید

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیارانۂ اطاعت قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں ارشاد ہوا ہے ؀ ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھالیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا تا کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (الاحزاب ۷۳-۷۲) انسان اور کائنات دونوں ہی خدا کی مخلوق ہیں۔ دونوں ہی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل طور پر خدا کی ماتحتی میں رہیں۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ کائنات مجبورانہ طور پر خدا کی ماتحتی کو قبول کیے ہوئے ہے۔ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اسی ماتحتی کو خود اپنے آزاد فیصلے کے تحت اختیار کرے۔ "امانت" سے مراد یہی اختیار ہے۔ اختیار کو امانت اس لیے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کے لیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے۔ تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابعدار بنے۔ امانت ، دوسرے لفظوں میں ، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پر وہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کر رہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کر سکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشے کے باوجود اس کو قبول کر لیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کو اپنے اوپر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالت امتحان میں ہے۔ اور موجودہ دنیا اس کے لیے وسیع امتحان گاہ۔ یہ "امانت" ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا و سزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور و مقہور ہیں۔ اس لیے ان کے واسطے جزا و سزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے، اس لیے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page