تمہید
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
نعمتِ طعام قرآن کی سورہ نمبر ۸ میں ارشاد ہوا ہے ــــ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کو دیکھے ۔ ہم نے پانی برسایا اچھی طرح ۔ پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا ۔ پھر اگائے اس میں غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور پھل اور سبزہ ، تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ حیات کے طور پر ۔ پس جب وہ کانوں کو بہرہ کر دینے والا شور بر پا ہو گا ۔ جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے ۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے ، ہنستے ہوئے ، خوشی کرتے ہوئے۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی ۔ ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی یہ ہی لوگ منکر ہیں ، ڈھیٹ ہیں ( عبس ۴۲ - ۲۴ ) انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل خوراک کی ضرورت ہے۔ اس خوراک کا انتظام ہماری زمین پر نہایت وسیع پیمانہ پر کیا گیا ہے ، جب کہ اس انتظام میں ہمارا کوئی دخل نہیں ۔ اس خوراک کا ایک انتظام وہ ہے جو ہمارے لیے زرعی پیداوار کی صورت میں کیا گیا ہے ، زمین پر پانی کا انتظام اور پانی کے ذریعہ طرح طرح کے غلے اور میوے کا پیدا ہونا ۔ اس زرعی پیداوار کی حیثیت ہمارے لیے براہِ راست خوراک کی ہے ۔ دوسری خوراک وہ ہے جس کو بالواسطہ طور پر تیار کیا جاتا ہے ۔ یعنی حیوانات کا زمینی پیداوار کو کھا کر اس کو گوشت کی صورت میں تبدیل کرنا۔ اس نعمت کا تقاضا ہے کہ انسان دنیا میں خدا پرست بن کر رہے۔ یہ خدا پرستی جو انسان سے مطلوب ہے اس کا محرک اصلًا شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گرد و پیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازما اس کے اندر اپنے رب کے بارہ میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader