وعدہ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
وعدہ اجتماعی زندگی میں باہمی معاملات کرتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کوئی وعدہ کرتا ہے۔ ایسا وعدہ بظاہر دو انسانوں یا دو گروہوں کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر اس میں تیسرا فریق خدا ہوتا ہے جو گواہ کی حیثیت سے لازمی طور پر اس میں موجود رہتا ہے۔ اس لیے ہر وعدہ ایک خدائی وعدہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے مومن وعدہ کے بارے میں نہایت حساس ہوتا ہے۔ اس کا یہ یقین کہ ہر وعدہ جو دو آدمیوں کے درمیان کیا جائے وہ خدا کی نگرانی میں ہوتا ہے اور خدا کے یہاں اس کا حساب ہوگا۔ یہ یقین اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ وعدہ کے بارے میں حد درجہ ذمہ دار ہو۔ جب وہ کسی سے ایک وعدہ کرلے تو لازماً وہ اس کو پورا کرے۔ جس سماج میں لوگ اس صفت کے حامل ہوں کہ وہ وعدہ ضرور پورا کریں۔ اس سماج کا ہر فرد قابل پیشین گوئی کردار کا حامل بن جاتا ہے۔ ایسے سماج میں وہ خاص صفت آ جاتی ہے جو بقیہ کائنات میں وسیع پیمانہ پر موجود ہے۔ اس کائنات کا ہر جزء حد درجہ صحت کے ساتھ اپنا عمل کر رہا ہے۔ مثلاً سیاروں اور ستاروں کی گردش کے بارے میں پیشگی طور پر جانا جا سکتا ہے کہ وہ اگلے سو سال بعد یا ہزار سال بعد کہاں ہوں گے۔ اسی طرح پانی کے بارے میں پیشگی طور پر یہ معلوم ہے کہ وہ کتنے درجہ کی حرارت پر ابلنے لگے گا۔ اسی طرح پوری کائنات قابل پیشین گوئی کردار کی حامل بن گئی ہے۔ جس سماج میں لوگ وعدہ پورا کرنے والے بن گئے ہوں اس سماج میں اپنے آپ بہت سی دوسری خوبیاں پرورش پانے لگتی ہیں۔ مثلاً ایسے سماج میں لین دین کے جھگڑے نہیں ہوتے۔ ایسے سماج میں ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ ایسے سماج میں ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader