Urdu book · اسلام پندرھویں صدی میں

اسلام پندرھویں صدی میں

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریک کا مقام نہیں دے سکتا۔ اور نہ اس پر خدا کے وہ وعدے پورے ہوسکتے جو صرف حقیقی اسلامی تحریک کے لئے مقدر ہیں۔ کرنے کا کام اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے ۔ اسی لئے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشہ کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری تک پہچانے کا کام کر رہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن وحدیث کا متن صحت وصفائی کے ساتھ چاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں مگر بہرحال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوت دین کے۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہین سکار حتیٰ کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پندرہویں صدی ہجری میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنیٰ بنارکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے اور کہیں مسلم اقتدار کے خلاف۔ کہیں وہ مسلح جدوجہد کے روپ میں ہے اور کہیں زبانی اور قلمی احتجاج کے روپ میں کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کر رہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کر رکھا ہے اور کہیں نظامی عنوان۔ تاہم سارے فرق واختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے۔ جدید امکانات کو دعوت توحید اور انذارِ آخرت کے لیے استعمال نہ کرنا اور اپنی قوتوں کو بے فائدہ طور پر مفروضہ حریفوں کے خلاف محاذ آرائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے خدا نے دعوتِ حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کرکے انہیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہونچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انہوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کرلیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page