جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں، وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ جہاد اصلاً پر امن جدوجہد کا عمل ہے۔ اسی پر امن جدوجہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : فلا تطع الكافرين وجاهدهم به جهاداً كبيرا (الفرقان: ۵۲) یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل جو بات ان سے منوانا چاہتے ہیں اس کو ہرگز نہ مانو، بلکہ قرآن کی تعلیمات کو لے کر ان کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو اور اس عمل میں اپنی آخری کوشش صرف کر دو۔ اس آیت میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد تمام تر فکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ابطال باطل اور احقاق حق کہا جا سکتا ہے۔ جہاد بمعنی قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پر امن جد و جہد ہی کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پر امن طریقہ سے دیا جائے۔ پر امن طریقہ کو صرف اُس وقت ترک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader