بنیادی مسئلہ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
رصدگاہیں کسی روز یہ اعلان کر دیں کہ زمین کی قوت کشش ختم ہوگئی ہے اور وہ چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچی جا رہی ہے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔ کیونکہ اس طرح کی ایک خبر کے معنی یہ ہیں کہ چند ہفتوں کے اندر روئے زمین سے ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ مگر یہ دنیا ہر آن ایک اس سے زیادہ شدید خطرے سے دوچار ہے اور کوئی نہیں جو اس سے گھبرانے کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔ یہ خطرہ کیا ہے! یہ قیامت کا خطرہ ہے جو زمین و آسمان کی پیدائش کے روز ہی سے اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ اور جس کی طرف ہم سب لوگ نہایت تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ عقیدہ کی حد تک سبھی لوگ اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو فی الواقع اس کے بارے میں سنجیدگی سے کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں۔ اگر آپ شام کے وقت کسی کھلے ہوئے بازار میں کھڑے ہو جائیں اور وہاں دیکھیں کہ لوگ کس لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آج کے انسان کس چیز کو اپنا اصل مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے بھرے ہوئے بازار میں موٹروں کی آمد و رفت کس لیے ہو رہی ہے ، دکان دار کس لیے اپنی دکانیں سجائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ انسانوں کے غول کے غول کہاں آتے جاتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی بات چیت کا موضوع کیا ہے اور ایک دوسرے کی ملاقات کس غرض سے ہو رہی ہے ، کن چیزوں سے لوگ دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ان کی بہترین صلاحیتیں اور ان کی جیب کے پیسے کس مقصد کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جو خوش ہے وہ کیا چیز پا کر خوش ہے اور جو چہرے اُداس نظر آتے ہیں ، کس چیز کی محرومی نے انہیں اداس بنا دیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے کیا چیز لے کر نکلے ہیں اور کیا چیز لینے کر واپس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader