بنیادی مسئلہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو تارہتا ہے یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد سارے کا سارا جسم بالکل نیا ہو جاتا ہے ۔ یہ عمل اوسطاً دس سال میں مکمل ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ کا جو جسم دس سال پہلے تھا اس میں آج کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ آج آپ کا جسم ایک نیا جسم ہے۔ دس سال کے عرصے میں آپ کے جسم کے جو حصے ٹوٹ کر الگ ہوتے ہیں، اگر ان کو پوری طرح یکجا کیا جا سکے تو بعینہ آپ کی شکل کا ایک دوسرا انسان کھڑا کیا جا سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ اگر آپ کی عمر ستر سال ہو تو آپ ہی جیسے تقریباً دس انسان بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ انسان بہ ظاہر دیکھنے میں آپ کی طرح ہوں گے مگر وہ سب کے سب مردہ جسم ہوں گے ۔ جن کے اندر ” آپ “ موجود نہیں ہوں گے ۔ کیوں کہ آپ نے پچھلے جسموں کو چھوڑ کر ایک نئے جسم کو اپنا قالب بنا لیا ہے ۔ اس طرح آپ کا جسم بنتا بگڑتا رہتا ہے مگر آپ کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ جس چیز کو آپ ” میں “ کہتے ہیں وہ بدستور باقی ہے۔ آپ نے اگر کسی سے دس سال پہلے ایک معاہدہ کیا تھا تو آپ ہر وقت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ ” میں “ نے کیا تھا۔ حالاں کہ اب آپ کا پچھلا جسمانی وجود باقی نہیں ہے ۔ وہ ہاتھ اب آپ کے جسم پر نہیں ہے جس نے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کئے تھے اور نہ وہ زبان موجود ہے جس نے معاہدے کی بابت گفتگو کی تھی ۔ لیکن ” آپ “ اب بھی موجود ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ دس سال پہلے جو معاہدہ میں نے کیا تھا وہ میراہی معاہدہ تھا اور اب بھی میں اس کا پابند ہوں یہی وہ اندرونی انسان ہے جو جسم کے ساتھ بدلتا نہیں بلکہ جسم کی کتنی ہی تبدیلیوں کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہو کہ انسان کسی خاص جسم کا نام نہیں ہے جس کے مرنے سے انسان بھی مرجائے۔ بلکہ وہ ایک ایسی روح ہے جو جسم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے اور جسم کے اجزاء منتشر ہونے کے بعد بھی بدستور باقی رہتی ہے۔ جسم کے بدلنے اور روح کے نہ بدلنے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader