Urdu book · اسلامی زندگی

انفاق

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

مال دین اور دنیا کے لئے مددگار بیھقی نے حضرت اسلم کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح سے کوئی سرکاری کام لیا اور اس کے بعد ان کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو واپس کر دیا اور کہا: اے ابن خطاب ! یہ کام میں نے تمھارے لئے نہیں کیا تھا۔ میں نے اس کو اللہ کے لئے کیا تھا۔ اس لئے میں اس بارے میں کچھ نہ لوں گا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کام پر بھیجا اور ہم کو عطیات دئے تو ہم کو اس کے لینے میں کراہت ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگوں کو لینا چاہئے : فاقبلہا ایہا الرجل فاستعن بہا علی دینك ودنياك پس اے آدمی اس کو قبول کر اور اس کے ذریعہ سے اپنے دین اور اپنی دنیا میں مدد حاصل کر۔ اس کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کر لیا۔ قریب کے صدقہ میں زیادہ ثواب حضرت ابو ہریرہ رضي کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے محمدؐ کی امت اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس آدمی سے اللہ کوئی صدقہ قبول نہیں کرے گا جس کے ضرورت مند رشتہ دار ہوں اور وہ ان کو دینے کے بجائے دوسروں کو دے (یا امة محمد والذی بعثنی بالحق لا یقبل الله صدقة من رجل دله قرابة محتاجون الى صلته ويصر فيها الى غيرهم ، طبرانی) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ محنت کی کمائی مومن کے لئے زیادہ بہتر ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا۔ آپ نے پوچھا: تمھارے گھر میں کچھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس ایک معمولی چادر ہے جس کو اوڑھتا ہوں۔ ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتا ہوں۔ آپ نے اس سے پیالہ منگوایا۔ آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ اس پیالہ کی قیمت لگاؤ۔ ایک شخص نے ایک درہم قیمت لگائی۔ دوسرے نے قیمت میں اضافہ کرکے دو درہم بتایا اور لے لیا۔ آپ نے یہ دونوں درہم انصاری کو دئے اور کہا: ایک درہم کا کھانا خرید کر اپنے گھر دے دو اور ایک درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔ وہ خرید کر لائے۔ آپ نے کلہاڑی میں اپنے ہاتھ سے دستہ ڈالا اور فرمایا : اذهب فاحتطب ولا ارينك خمسَة عشر جاؤ۔ جنگل سے لکڑی کاٹ کر لاؤ اور بیچو۔ پندرہ دن تک میرے پاس نہ آنا وه انصاری اپنے کام میں لگ گئے۔ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور ان کو فروخت کرتے۔ دو ہفتہ بعد دہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی آمد و خرچ کا حساب پیش کیا۔ اس مدت میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے بعد انھیں دس درہم بچے تھے۔ آپ خوش ہوئے اور فرمایا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page