Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاق

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

اولم ولو بشاة (احمد) دلیلہ کہ درد اگرچہ ایک بکری ہے۔ گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے کم نہیں طبرانی اور بزاز نے عبداللہ بن عباس رضیٰ سے نقل کیا ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے خدا کے رسول! میں عورتوں کی طرف سے قاصد بن کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ ان عورتوں میں سے ہر عورت، خواہ آپ اس کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، آپ کے پاس آکر یہ سوال پوچھنا چاہتی ہے۔ اللہ مردوں کا رب ہے اور عورتوں کا بھی۔ وہ دونوں کا الہ ہے۔ آپ مردوں کے بھی رسول ہیں اور عورتوں کے بھی۔ اللہ نے مردوں کے لئے جہاد رکھا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو اجر پاتے ہیں۔ اور اگر مارے جاتے ہیں تو اللہ کے یہاں زندہ ہو کر رزق حاصل کرتے ہیں۔ پھر ہم عورتوں کے لئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ان طاعة الزوج واعتراف بحقه يعدل ذلك، شوہر کی فرماں برداری اور اس کے حقوق کا پہچاننا وقليل منكن من يفعله (الترغیب والترہیب) تمھارے لئے جہاد کے برابر ہے۔ اگرچہ عورتوں میں بہت کم ہیں جو ایسا کرتی ہوں۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے پرہیز مالک نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر ایک عورت کو دیکھا۔ وہ کوڑھ کی بیماری میں مبتلا تھی اور بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی۔ آپ نے اس سے کہا: یا امة الله لا تؤذى الناس لو جلست فى بيتك اے اللہ کی بندی۔ لوگوں کو تکلیف نہ دے۔ بہتر ہے کہ تو اپنے گھر میں بیٹھے۔ وہ عورت گھر میں بیٹھ گئی۔ کچھ عرصہ بعد ایک آدمی کا اس مجذومہ عورت پر گزر ہوا۔ اس نے کہا: وہ خلیفہ جنہوں نے تجھ کو طواف سے منع کیا تھا وہ وفات پاگئے ۔ اب تو گھر سے نکل۔ خاتون نے جواب دیا : ما كنت لاطيعه حيا و اعصيه ميتا میں ایسی نہیں کہ زندگی میں ان کی اطاعت کروں اور (کنز العمال جلد ۳) مرنے کے بعد ان کی نافرمانی کروں۔ گھر میں داخلہ کے لئے اجازت طلب کرنے کے آداب طبرانی نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ علی ابن طالب رضی اللہ عنہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ انھوں نے بہت آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا (دق الباب دتا خفیفا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے لئے دروازہ کھول دو۔ طبرانی نے ایک اور روایت میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے آئے انہوں نے اندر داخل ہونے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page