Urdu book · اسلامی زندگی

عبادت

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک گم نام آدمی کا اجر بھی بڑے آدمیوں سے زیادہ ہوتا ہے ابن عساکر نے ارطاۃ بن منذر سے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کہا ای الناس اعظم اجرا (لوگوں میں کس آدمی کا اجر زیادہ ہے) کسی نے روزہ دار اور نمازی کا ذکر کیا۔ کسی نے کہا امیر المومنین کا اجر زیادہ ہے۔ کسی نے اور کسی کا نام لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ جن لوگوں کا تم نے ذکر کیا ان سے زیادہ اور امیر المومنین سے بھی زیادہ اجر کس کا ہے۔ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ معمولی آدمی جو شام (مقام جہاد) میں اپنے گھوڑے کی رويدجل بالشام بلجام فرسه يکلامن وراء لگام پکڑے ہوئے مسلمانوں کے لشکر کی حفاظت کر رہا ہے بیضة المسلمین، لايدرى السبع يفترسه اسے کچھ خبر نہیں کہ کوئی درندہ اس کو پھاڑ ڈالے گا یا کوئی ام هامة تلدغه اوعد و تعشناه ، نذالك کیڑا اسے ڈس لے گا یا دشمن اس پر چھاپہ مار دے گا۔ اس اعظم اجرا ممن ذكرتم ومن امیر المومنین شخص کا اجر ان لوگوں سے زیادہ ہے جن کا تم نے ذکر کیا اور (کنز العمال جلد ۲) امیر المومنین سے بھی۔ ربا سے بچنے والا جواب طبری نے حضرت عروہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ایلہ (فلسطین) آئے اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت تھی۔ آپ نے اسقف کو اپنا کرتا دیا جو کھدر کے پیوندوں کا تھا۔ لمبے راستہ پر سواری پر بیٹھنے کی وجہ سے کرتا پیچھے کی طرف پھٹ گیا تھا۔ آپ نے اس کو اسقف کو دیا تاکہ وہ اس کو دھودے اور اس پر پیوند لگا دے۔ اسقف قمیص کو لے گیا۔ اس کو درست کیا اور اس کے ساتھ ایک اور کرتا باریک کپڑے کا بھی لے آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ اسقف نے کہا: یہ تو آپ کی قمیص ہے۔ اس کو میں نے دھویا ہے اور اس میں پیوند لگایا ہے۔ یہ نذر سرا میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا۔ ہاتھ سے چھوا۔ پھر اپنا کرتا پہن لیا اور دوسرا کرتا اسقف کو واپس کر دیا اور فرمایا : دونوں میں سے یہ کرتا پسینہ جذب کرنے کے لئے زیادہ اچھا ہے (کنز العمال جلد ۲) تش الشفهما للعراق سب کچھ کرکے بھی دنیا میں قیمت نہ چاہنا عبد الرحمن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: یہ مہاجرین تمھارے بھائی ہیں۔ وہ اپنے مال اور اولاد کو چھوڑ کر تمھارے پاس آئے ہیں۔ انصار نے کہا: ہمارے پاس کھجور کے باغ ہیں۔ ان میں آدھا مہاجرین کا، آدھا ہمارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ انصار نے کہا اے خدا کے رسول ! وہ کیا۔ آپ نے فرمایا: یہ مکہ کے لوگ کھیتی اور باغبانی نہیں جانتے، تم ان کی طرف سے کام کرو اور پیداوار میں تقسیم کر لو۔ انصار نے کہا سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا) جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار جب فصل کے موقع پر کھجوریں توڑتے تو ہر انصاری یہ کرتا کہ کھجوروں کے دو حصے بناتا۔ ایک حصہ کم ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page