Urdu book · اتحادِ ملت

اتحاد کی طاقت

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اتحاد کی طاقت کسی شخص نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ سورج کی گرمی سے کاغذ جل گیا۔ حالاں کہ سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ کاغذ تو کیا پورا کا پورا پہاڑ بلکہ سارا کرۂ ارض اس طرح جل سکتا ہے جیسے کسی بھڑکتے ہوئے تنور میں ایک تنکا۔ مگر یہی سورج جس کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے جنگلوں اور پہاڑوں کو پھونک سے اُڑا دے وہ موجودہ حالت میں ایک تنکے کو بھی جلانے پر قادر نہیں ہے، ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں لاکھوں کروڑوں میل کے دائرے میں بکھی ہوئی ہیں۔ اس انتشار کی وجہ سے کسی چیز پر بیک وقت اس کی شعاعیں اتنی مقدار میں نہیں پڑتیں کہ وہاں وہ اتنی گرمی پیدا کر سکیں جو کسی چیز کو جلانے کے لئے ضروری ہے۔ حالاں کہ یہی بکھی ہوئی شعاعیں اگر سمیٹ دی جائیں تو وہ خوفناک الاؤ کی شکل میں بھڑک سکتی ہیں۔ آفتابی چولھا سورج کی شعاعوں کے اسی قسم کے ارتکاز کا نام ہے۔ بکھی ہوئی شعاعوں کو ایک خاص دائرے میں سمیٹ دینے کی وجہ سے اس جگہ اتنی گرمی پیدا ہوجاتی ہے کہ کھانا پکنے لگتا ہے۔ آفتابی چولھا تو ابھی بہت کم رایج ہو سکا ہے مگر آتشیں شیشہ (Burning Glass) ایک ایسی چیز ہے جو اکثر اشخاص نے کبھی نہ کبھی دیکھا ہوگا کہ آتشیں شیشہ کیا ہے۔ یہ ایک محدب یا کروی عدسہ (Convex Lens) ہے جس سے کاغذ یا دوسری آتش پذیر چیزوں میں آگ لگائی جاسکتی ہے۔ عام حالات میں کاغذ پر سورج کی جو شعاعیں پڑتی ہیں، وہ اتنی زیادہ گرمی نہیں پیدا کر سکتیں کہ اس میں آگ لگ جائے، مگر انھیں شعاعوں کو جب مجتمع کر دیا جاتا ہے تو وہ شعلہ کی مانند بھڑک اُٹھتی ہیں۔ کوئی بھی شخص تجربہ کر کے معلوم کر سکتا ہے کہ لنس ان شعاعوں کو طاقت ور بنانے کے لئے کیا کرتا ہے، ذیل کے نقشہ میں شعاعیں آتشیں شیشہ سے گزر کر مڑ رہی ہیں۔ بکھری ہوئی شعاعیں ایک نقطہ پر جمع ہو کر طاقت ور ہو جاتی ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page