Urdu book · اتحادِ ملت

یہ بات ہم میں کیوں نہیں

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات ہم میں کیوں نہیں بڑھئی پورے انہماک کے ساتھ اپنے کام میں مشغول تھا۔ اس کے سامنے مختلف قسم کی لکڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ کسی کو کاٹتا ، کسی کو چھیلتا ، کسی میں سوراخ کرتا اور کسی پر رندہ چلاتا۔ بظاہر ان مختلف چیزوں میں کوئی باہمی ربط نہیں تھا۔ ایک انجان آدمی دیکھے تو یہی رائے قائم کرے گا کہ بڑھی قسم قسم کی لکڑیوں کو بے مقصد طور پر ٹھونکنے پیٹنے میں مشغول ہے۔ چند روز بعد نقشہ دوسرا تھا۔ اب لوگوں نے دیکھا کہ جہاں متفرق لکڑیاں بکھری ہوئی تھیں وہاں خوبصورت کرسی اور میز رکھے ہوئے ہیں۔ اب ان کو معلوم ہوا کہ بڑھئی اگر چہ بظاہر بے ترتیب عمل کر رہا تھا مگر حقیقتاً وہ نہایت مربوط کام میں مشغول تھا۔ اس کا کئی کام دراصل ایک کام تھا۔ اس کے ذہن میں ایک مکمل نقشہ تھا اور متفرق لکڑیاں اس کے اسی مکمل نقشہ کے اجزار تھے۔ وہ ان پر اس لئے عمل کر رہا تھا کہ ان کو اپنے کلی نقشہ سے ہم آہنگ کرے اور پھر ان سب کو اپنے نقشہ کے مطابق جوڑ کر اپنے ذہنی منصوبہ کو عملی شکل دے سکے۔ یہ دیکھ کر مجھے خیال آیا ــــــــ کاش ملت کے درمیان مختلف سرگرمیوں کی بھی یہی نوعیت ہوتی۔ ہمارے اشخاص اور ہمارے ادارے طرح طرح کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ کوئی علمی کام کر رہا ہے اور کوئی تبلیغی کام۔ کوئی تعلیمی خدمت انجام دے رہا ہے اور کوئی سماجی خدمت۔ کوئی سیاسی میدان میں سرگرم ہے اور کوئی اقتصادی میدان میں۔ اگر ہمارا ذہن ایک ہو اور ہمارے درمیان ملی شعور زندہ ہو تو یہ بظاہر الگ الگ ہونے والی سرگرمیاں ایک منظم منصوبہ کی شکل اختیار کر لیں گی ۔ وہ مختلف کام جو آج ایک دوسرے سے الگ الگ نظر آتے ہیں، وہ مستقبل کی اس ملت اسلامی کے اجزا بن جائیں گے جو ہر لحاظ سے مکمل ہوگی۔ جس میں وہ سب کچھ اپنی اپنی جگہ موجود ہوگا جو ایک زندہ اور مستحکم گروہ کے لئے اس دنیا میں ضروری ہے۔ جو واقعہ کرسی اور میز کی دنیا میں روزانہ پیش آتا ہے وہی ہمارے درمیان کیوں نہیں بنتا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ کرسی اور میز کی لکڑیاں اپنے آپ کو ایک بڑھئی کے حوالے کر دیتی ہیں اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ میز اور کرسی کی صورت میں ڈھل سکیں ۔ اس کے برعکس ہم کسی کو اپنا "بڑھئی" ماننے کے لئے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری زندگی میں وہ واقعہ ظاہر نہیں ہوتا جو لکڑی کی دنیا میں ہر آن ظہور میں آرہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page