Urdu book · اتحادِ ملت

اپنے خلاف تنقید سن کر بھرا اٹھا

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اپنے خلاف تنقید سن کر بھر اٹھا ایزا پاؤنڈ (۱۸۸۵۔ ۱۹۷۲) مشہور امریکی شاعر اور تنقید نگار ہے۔ را بندرا ناتھ ٹیگور سے اس کی پہلی ملاقات ۳۰ جون ۱۹۱۲ کو لندن میں ہوئی۔ وہ ٹیگور کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا ۔ ٹیگور کی نظم گیتا نجلیکا انگریزی ترجمہ چھپاتو توا زر ایرا پاؤنڈ (Ezra Pound) نے نکھاٹھ ٹیگور کے کلام میں وہ عظمت پائی جاتی ہے جو دانتے کی خصوصیت ہے ۔ اس نے یہاں تک کہا کہ وہ ہم میں سے کسی بھی شخص کے مقابلہ میں زیادہ عظیم ہیں۔ greater than any one of us ایرا پاؤنڈ نے ٹیگور کی بابت یہ الفاظ مارچ ۱۹۱۳ میں ایک امریکی رسالہ (Fortnightly Review) میں لکھے تھے صرف ایک ماہ بعد ۲۲ اپریل ۱۹۱۳ کو اس نے رسالہ (Poetry) کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جس میں ٹیگور کو فضول (Superfluous) قرار دیا اور کہا کہ ان کے کلام میں صرف بعض پرانی باتوں کی تکرار ہے اور اصل بنگالی زبان میں جواد بی چاشنی تھی وہ بھی انگریزی ترجمہ میں ختم ہوگئی ہے ۔ ٹیگور کے بارہ میں ایرا پاونڈ کی رائے میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایرا پاؤنڈ نے کالی موہن گھوش کی مدد سے کبیری نظموں کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ یہ ترجمہ کتابی صورت سے پہلے میگزین میں قسط وار چھپا ۔ ٹیگور نے اس ترجمہ کو دیکھا تو وہ ان کو بہت ناقص معلوم ہوا۔ انھوں نے اس کے ادبی معیار پر سخت تنقید کی ۔ اس تنقید کو پڑھ کر ایرا پاؤنڈ کگڑ گیا اور وہی ٹیگور جس کی بابت وہ اس سے پہلے غیر معمولی تعریفی کلمہ کہہ چکا تھا، اس کی ہجو کرنے لگا ۔ (ٹائمز آف انڈیا، ۱۸ مارچ ۱۹۷۹) بیشتر انسانوں کے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت چیزان کی اپنی ذات پر تنقید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انسانوں کے لئے پرستش کا مرکز ان کی اپنی ذات ہوتی ہے اور آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پرستش کے مرکز پر تنقید کبھی گوارا نہیں کرتا۔ آدمی جب کسی کی تعریف کرتا ہے تو اکثر حالات میں وہ خود اپنی تعریف کی ایک صورت ہوتی ہے۔ ایک لیڈر جب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور پنڈال میں بھرے ہوئے عوام کے سامنے فیاضانہ الفاظ کا تحفہ پیش کرتا ہے تو دراصل وہ عوام کو ان کے اس عطیہ کا بدلہ دے رہا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کے تقریری تھیٹر میں جمع ہو کر اس کی شان میں اضافہ کیا۔ ایک شخص جب کسی ایسے شخص کے اعتراف میں قصیدہ پڑھتا ہے جو اس کا حریف نہیں ہے تو یہ دراصل اپنے وسعت ظرف اور اپنی شرافت کے اشتہار کی ایک بے ضرر صورت ہوتی ہے ۔ ایک صاحب قلم جب دوسرے صاحب قلم کے تذکرہ میں الفاظ کے پھول کھلاتا ہے تو وہ یا تو بالواسطہ طور پر اس کے کسی سابقہ قصیدہ کا شکرانہ ادا کر رہا ہوتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ تم بھی اسی طرح میرا قصید شائع کرنا۔ کبھی ایک تعریف اس لئے بھی شائع کی جاتی ہے کہ کسی سابقہ تنقید کی وجہ سے اپنی بگڑی ہوئی تصویر کو متوازن کہا جاسکے۔ حقیقی تعریفی کلمات دہ میں جیاپنے بھائی کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلے ہوں۔ لگر یہی چیز دنیا میں سب سے زیادہ کم باب ہے۔ کسی کو حقیقی خیر خواہی کا ایک کلمہ دینا اتنی بڑی فیاضی ہے جو شاذ و نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page